30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)بعینہٖ یہی حالت فونو کی ہے کہ وہ کسی صوت خاص کے لئے موضوع نہیں جسے معازف ومزامیر میں داخل کرسکیں بلکہ ادائے ہر قسم آوازکا آلہ ہے تو حسن وقبح و منع واباحت میں اسی آواز مؤدی بہ کا تابع ہوگا جب تك خارج سے کوئی مغیر عارض نہ ہو اگر اس میں سے مزامیر کی آواز سنی جائے تو حکم مزامیر میں ہے اور بہ نیت تذکرہ وعظ وتذکیر کی آواز سنی جائے تو حکم وعظ وتذکیر میں اور وعظ ومذکر کا ذی روح ہونا کچھ شرط نہیں ؎
مرد باید کہ گیرد اندر گوش وزنبشت ست بند بر دیوار
(مرد کو چاہئے کہ اپنے کانوں سے نصیحت سنے اگر چہ کلمات نصیحت کسی دیوار پر لکھے ہوں۔ت)
آلہ ادا میں فی نفسہٖ کوئی آواز ودیعت ہی نہیں ہوتی آوازیں تو رکاوٹوں میں ہیں آلہ محض مثل گلو و حنجرہ ہے جس سے ہر طرح کی صوت نکال سکتے ہیں تو خراب وناجائز پلیٹوں کاحکم پاك وجائز قالبوں کی طرف کیوں ساری ہونے لگا اور اگر بھرنے والوں نے ایك ہی ریکارڈ کے ایك پہلو پر کچھ آیات یا اشعار حمد و نعت اور دوسرے پر کچھ خرافات بھری ہیں تو یہ بے ادبی وجمع ضدین ان کا فعل ہے خذ ما صفا و دع ما کدر(جو صاف ہولے لو،جو گدلا ہو چھوڑ دو۔ت)پرعمل کرنے والے اس پر کیوں ماخوذ ہوں گے اس کی نظیر کنیز مشترك ہے اس کے ایك صالح مولٰی نے اسے قرآن عظیم پڑھایا دوسرے فاسق نے گانا سکھایا تو اس کے گلے سے دونوں چیزوں کا ادا ہوسکنا صالح آقا کو اس سے قرآن عظیم سننا منع نہ کردیگا عرف میں اسے باجا کہنا مزامیر ومعازف ممنوعہ کے حکم میں داخل نہ کردے گا۔
|
فان الامورلمقاصدھا وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی [1]۔ |
کیونکہ کاموں کا اعتبار بلحاظ ان کے مقاصد کے ہے اعمال کا مدار ارادوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے کہ جس کا اس نے ارادہ کیا ہے۔(ت) |
معازف و مزامیرآلات لہو وطرب ہیں جو خاص موسیقی کی آوازیں ادا کرنے کو لذت نفسانی و نشاط شیطانی کے لئے وضع کئے گئے ہر غیر ذی روح جس سے آواز کسی مقصد حسن یا مباح کے لئے پیدا کی جائے اس میں داخل نہیں ہوسکتا اگر چہ اس سے آواز نکالنے کو بجانا کہیں یوں تو طبل غازی ونقارہ سحری بھی باجا ہے ریل کے انجن میں جو سوراخ دھواں نکالنے کو رکھا جاتا ہے جس سے لوگوں کا جان ومال بچانے کے لئے ان کی اطلاع دہی کو آواز نکالی جاتی ہے اس آواز کو بھی سیٹی یا پپہیا کہتے ہیں مگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع