30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ حق یہ ہے کہ اس تقدیر پر جہل مردم وناواقفی حال آلہ وعدم نیت وعدم تنبہ کا قدم درمیان نہ ہو تو دیدہ دانستہ ان میں آیات بھرنے والے کا حکم معاذاﷲ القائے مصحف فی القاذورات(اﷲ تعالٰی کی پناہ۔یہ تو مصحف شریف کو نجاستوں میں پھینکنا ہے۔ ت)کے مثل ہوتا ہم روشن کرچکے کہ تمام جلوہ گاہوں میں وہی صفت الٰہیہ بعینہا حقیقۃً جلوہ فرما ہوتی ہے تو اس کے لئے معاذاﷲ یہ ناپاك کسوت مقرر کرنا کس درجہ ایمان ہی کے مخالف ہے۔والعیاذ باﷲ تعالٰی،پھر یہ تو ہیں خبیث صرف ان بھرنے والوں ہی کے ماتھے نہ جائے گی بلکہ باوجود اطلاع اسے تحریك دے کر الفاظ قرآنی کی آواز اس سے ادا کرنے والے اس کی خواہش کرکے ادا کرانے والے سننے والے سنانے والے اس پر راضی ہونے والے،باوصف قدرت انکار نہ کرنے والے سب اسی بلائے عظیم میں گرفتار ہوں گے۔نہ فقط یوں کہ تو ہین کے مرتکب صرف بھرنے والے ہوں اور یہ اس کے روا رکھنے گوارا کرنے والے نہیں نہیں بلکہ ہر بار بعینہٖ ویسی ہی توہین جدید کے یہ خود پیدا کرنے والے کہ انھوں نے گویا نقوش کتابت قرآنیہ اس نجس میں لکھے انھوں نے الفاظ تلاوت قرآنیہ اس پر گزرتے ہوئے ادا کئے بلکہ اس وقت اس کی تجلی بے پردہ وحجاب جلوہ فرما ہوگی بھری ہوئی چوڑیوں میں نقوش قرآنیہ ہونا ہر شخص نہ سمجھے گا اور اب جو ادا کیا جائے گا کسی کو اس کے قرآن ہونے میں اصلا اشتباہ نہ ہوگا ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم(گناہوں سے تحفظ اور بھلائی کرنے کی قوت کسی میں نہیں بجز اﷲ تعالٰی بلند مرتبہ اور بڑی شان والے کی توفیق دینے۔ت)
وجہ دوم: یہ صورت تو وہ تھی کہ ان کا گلاسوں پلیٹوں کا پلیدو نجس ہونا معلوم یا مظنون ہی ہو۔
|
فان الظن فی الفقہیات ملتحق بالیقین لاسیما مثل امر الاحتیاط فی الدین۔ |
کیونکہ فقہی مسائل میں گمان،یقین کے ساتھ ملحق ہے۔ خصوصًا اس نوع کے دینی احتیاط کے معاملہ میں۔(ت) |
بلکہ اگر حالت شبہہ ہو جب بھی حکم احتراز ہے۔کہ محرمات میں شبہہ ملتحق بیقین ہے۔کما نص علیہ فی الہدایۃ وغیرھا۔ (جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)اب وہ صورت فرض کیجئے کہ پلیٹ وغیرہ کی طہارت یقینی ہو اس کے اجزاء اور بنانے کا طریقہ معلوم ہو جس میں کہیں کسی نجاست کا خلط نہیں تو اس میں ایك کھلی سخت شدد نجاست معنوی رکھی ہوئی ہے وہ یہ کہ اس کا عام بجانا،سننا،سنانا سب کھیل تماشے کے طورپر ہوتا ہے۔قرآن عظیم اس لئے نہیں اترا اسی عزت والے عزیز عظیم سے پوچھو کہ وہ کھیل کے طور پر اپنے سننے والے کی نسبت کیا فرماتاہے:
|
" اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ وَہُمْ فِیۡ |
لوگوں کے لئے ان کا حساب نزدیك آیا اور وہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع