30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ہے:
|
الظاھر الصدی تموج ھواء جدید لارجوع الھواء الاول [1]۔ |
ظاہر یہ ہے کہ آواز بازگشت ایك نئی ہوا میں موج پیدا ہوناہے۔لہذا وہ پہلی ہوا کا واپس لوٹنا نہیں۔(ت) |
شرح میں ہے:
|
وذٰلك لان الھواء اذا تموج علی الوجہ الذی عرفتہ حتی صادم جسما یقادمہ و یردہ الی خلف لم یبق فی الھواء المصادم ذٰلك التموج بل یحصل فیہ بسبب مصادمتہ ورجوعہ تموج شبیہ بالتموج الاول وقد یظن ان الھواء المصادم یرجع متصفا بتموجہ الاول بعینہ فیحمل ذٰلك الصوت الاول الی السامع الاتری ان الصدی یکون علی صفتہ وھیأتہ وھذا وان کان محتملا الا ان الاول ھو الظاھر [2]۔ |
یہ اس لئے کہ جب ہوا میں اس وجہ کے مطابق موج پیدا ہو کہ جس کو آپ پہچان چکے حتی کہ اگر وہ کسی ایسے جسم سے ٹکرائے کہ جو اس کے مقابلے میں آئے اور وہ اسے پیچھے کی طرف لوٹادے تو پھر اس ٹکرانے والی ہوا میں وہ تموج باقی نہ رہے گا بلکہ اس میں تصاد م اور رجوع کی وجہ اور سبب سے ایك ایسا تموج پیدا ہوگا جو تموج اول کے بالکل مشابہ اور اس کی شبیہ ہوگا،اور کبھی یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ہوا متصادم بعینہٖ یعنی بالکل اس پہلے تموج کے ساتھ متصف رہتے ہوئے واپس لوٹتی ہے پھر اس پہلی ہی آواز کو اٹھا کر سامع تك پہنچادیتی ہے کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ صدی(بازگشت)اپنی صفت اور ہیئت پر باقی ہوتی ہے اگر چہ اس بات کا احتمال ہے مگر پہلی بات ہی ظاہر ہے۔(ت) |
مقاصد میں ہے:
|
جعل الواصل نفس الہواء الراجع او اخر متکیفا بکیفیتہ علی ما ھو الظاھر [3]۔ |
نفس ہوا راجع کو واصل قرار دینا یا دوسری ہوا کو جو پہلی کی کیفیت سے متکیف(اور متصف)ہو جیسا کہ یہ ظاہر ہے۔(ت) |
شرح میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع