30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہم ثابت کرتے آئے ہیں کہ یہ جو فونو سے سننے میں آئی اس مکلف عاقل ذی ہوش کی تلاوت ہے نہ کہ اس کی مثال وحکایت۔پھر آخر یہاں سجدہ نہ واجب ہونے کی کیا وجہ ہے۔اقول:(میں کہتاہوں۔ت)ہاں وجہ ہے اورنہایت موجہ ہے کہ گنبد کے اندر یا پہاڑ یا چکنی گچ کردہ دیوار کے پا س اور کبھی صحرا میں بھی خود اپنی آواز پلٹ کر دوبارہ سنائی دیتی ہے جسے عربی میں صدا کہتے ہیں۔ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اس کے سننے سے بھی سجدہ واجب نہیں ہوتا،نہ خود قاری پر نہ سامع اول پر جس نے تلاوت سن کر دوبارہ یہ گونج سنی نہ نئے پر جس نے پہلی تلاوت نہ سنی تھی اور یہ صدا ہی سنی کہ حکم مطلق ہے۔تنویر ودر میں ہے:
|
لاتجب بسماعۃ من الصدٰی [1]۔ |
آواز بازگشت سے آیت سجدہ سنی تو سجدہ تلاوت واجب نہیں۔(ت) |
بحرالرائق میں ہے:
|
تجب علی المحدث والجنب وکذا تجب علی السامع بتلاوۃ ھؤلاء الا المجنون لعدم اھلیتہ لا نعدام التمییز کالسماع من الصدی کذا فی البدائع والصدی مایعارض الصوت فی الاماکن الخالیۃ [2]۔
|
بے وضو اور جنبی(ناپاک)پر سجدہ تلاوت ادا کرنا واجب ہے۔اور اسی طرح ان لوگوں سے تلاوت سننے والے پر بھی سجدہ کرنا واجب ہے مگر دیوانے پر نہیں۔اس لئے کہ وہ اہلیت سجدہ نہیں رکھتا کیونکہ اس میں عقل اور تمیز نہیں جیسے آواز بازگشت سننے سے وجوب سجدہ نہیں۔البدائع میں یہی مذکور ہے اور صدی(آواز بازگشت)وہ ہے جو بلند مقامات میں آواز سے ٹکرائے اور اس کے مقابل پید اہوجائے۔(ت) |
اب صدا میں علماء مختلف ہیں کہ ہوا اسی تموج اول سے پلٹتی ہے یا گنبد وغیرہ کی ٹھیس سے وہ تموج زائل ہوکر تموج تازہ اس کیفیت سے متکیف ہم تك آتا ہے مواقف ومقاصد اور ان کی شروح میں ثانی کو ظاہر بتایا پھر اس ثانی کے بیان میں عبارات مختلف ہیں بعض اس طرف جاتی ہیں کہ پلٹتی وہی ہوا ہے مگر اس میں تموج نیا ہے یہی ظاہر ہے شرح مواقف وطوالع وبعض شروح طوالع سے،بعض تصریح کرتی ہیں ہوا ہی دو سری اس کیفیت سے متکیف ہوکر آتی ہے یہ نص مواقف ومقاصد شرح ہے۔مطالع الانظار کی عبارت پھر متحمل ہے ولہذا ہم نے یہ مضمون ایسے الفاظ میں اد اکیا کہ دونوں معنی پید ا کریں۔مواقف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع