30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تجب وفی الحجۃ ھو الصحیح،تاتارخانیۃ قلت والاکثر علی تصحیح الاول وبہ جزم فی نور الایضاح [1]۔ |
اوریہ بھی کہا گیا بصورت مذکورہ سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے چنانچہ فتاوٰی حجۃ میں ہے کہ یہی صحیح ہے تتارخانیہ،میں کہتا ہوں کہ اکثر ائمہ کرام قول اول کی تصحیح پر قائم ہیں۔ چنانچہ نورالایضاح میں اسی پر یقین کیا ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
النائم اذا اخبرانہ قرأھا فی حالۃ النوم تجب علیہ وھو الاصح تتارخانیہ و فی الدرایۃ لا تلزمہ ھو الصحیح امداد ففیہ اختلاف التصحیح وامالزومھا علی السامع منہ اومن المغمی علیہ فنقل فی الشرنبلالیۃ ایضا اختلاف الروایۃ و التصحیح وکذا من المجنون [2]۔ |
سونے والے کو جب بتا یا جائے کہ اس نے بحالت خواب آیت سجدہ پڑھی تو اس پر سجدہ کرنا واجب ہے۔اوریہی زیادہ صحیح ہے۔تتارخانیہ اور درایہ میں ہے۔کہ اس پر(دریں صورت) سجدہ لازم نہیں اور یہی صحیح ہے۔امداد،پس اس میں تصحیح کا اختلاف ہے لیکن سامع (سننے والا)اور بیہوش پر سجدہ تلاوت کا لزوم(تو اس کے متعلق گزارش ہے کہ شرنبلالیہ میں روایۃ اور تصحیح کا اختلاف نقل کیا گیا ہے۔اور اسی طرح دیوانے کے بارے میں ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
قال فی الفتح لکن ذکر الشیخ الا سلام انہ لایجب بالسماع من مجنون او نائم او طیرلان السبب سماع تلاوۃ صحیحۃ وصحتھا التمییز ولم یوجد وھذا التعلیل یفید التفصیل فی الصبی فلیکن ھو المعتبر ان کان ممیزا وجب بالسماع منہ و الا فلااھ واستحسنہ فی الحلیۃ [3]۔ |
فتح القدیر میں فرمایا:لیکن شیخ الاسلام نے ذکر فرمایا اگر دیوانے یا سونے والے یا پرندہ سے آیت سجدہ سنی تو سجدہ تلاوت واجب نہیں کیونکہ اس کا سبب تلاوت صحیحہ ہے۔اور صحت تلاوت کا مدار تمیز ہے اور وہ یہاں نہیں پائی گئی۔اور یہ تعلیل اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ یہی تفصیل بچے میں کی جائے گی۔لہذا اسی کااعتبار کرنا چاہئے،کہ اگر بچہ عقل وتمیز رکھتا ہے تو اس سے آیۃ سجدہ سنی گئی تو سجدہ تلاوت واجب ہے ورنہ نہیں اھ اور اس کو حلیہ میں مستحسن قرار دیا گیا ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع