30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وسلم ھنا فی ھذا الحدیث(ای حدیث ان ھذا القرآن طرفہ بیداﷲ تعالٰی و طرفہ بایدیکم رواہ ابن ابی شیبۃ والطبرانی فی الکبیر [1] عن ابی شریح رضی اﷲ تعالٰی عنہ)الی القراٰن تفید انہ واحد لا تعدد لہ اصلا وھو الصفۃ القدیمۃ وھو مکتوب فی المصاحف المقروبالالسنۃ،المحفوظ فی القلوب من غیر حلول فی شیئ من ذٰلك ومن لم یفھم ھذا علی حسب ما ذکرنا لصعوبتہ علیہ یجب علیہ الایمان بہ بالغیب کما یؤمن باﷲ تعالی وبباقی صفاتہ سبحانہ وتعالٰی ولا یجوز لاحد ان یقول بحدوث مافی المصاحف والقلوب والالسنۃ [2] الی اخرھا افاد و اجاد علیہ رحمۃ الملك الجواد۔ |
اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کااس حدیث میں یعنی حدیث ذیل میں اس طرف اشارہ ہے۔یہ قرآن مجید اس کی ایك طرف اﷲ تعالٰی کے بے مثل ہاتھ میں ہے۔اور اس کی دوسری طرف تمھارے ہاتھوں میں ہے۔تو گویا آپ کا قرآن مجید کی اسی حیثیت کی طرف اشارہ ہے۔محدث ابن ابی شیبہ اور امام طبرانی نے معجم کبیرمیں حضرت ابو شریح رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس کو روایت کیا ہے پس اس اشارہ سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ اﷲ تعالٰی کا کلام ایك ہے اس میں بالکل کوئی تعدد نہیں۔اور وہ صفت قدیمہ ہے جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے۔زبانوں سے پڑھا گیا اور دلوں میں ضبط شدہ ہے کہ جس میں کوئی حلول نہیں،او رجو کوئی ہمارے ذکر کردہ بیان کے مطابق اس مسئلہ کو بوجہ اس کے اشکال کے نہ سمجھے تو پھر بھی واجب ہے کہ وہ اس پر اسی طرح ایمان بالغیب رکھے کہ جس طرح اﷲ تعالٰی پاك اور برتر کی ذات اور دیگر صفات پر ایمان رکھتا ہے اور کسی کے لئے جائز نہیں کہ جو کچھ مصاحف میں مرقوم دلوں میں موجود اور زبانوں پر جاری ہے وہ حادث ہے(یہ سب کچھ)آخر تك علامہ موصوف نے افادہ فرمایا اور اس میں کمال کردیا۔لہذا اﷲ تعالٰی جو پوری کائنات کا بادشاہ اور نمایاں طور پر سخی ہے اس کی ان پر خصوصی رحمت وبرکات کا دائمی نزول ہو۔(ت) |
امام اجل عارف باﷲ سیدی عبدالوہالا شعرانی قدس سرہ الربانی میزان الشریعۃ الکبرٰی باب مایجوز بیعہ ومالا میں فرماتے ہیں:
|
قدجعلہ(ای المکتوب والمصحف)اھل السنۃ والجماعۃ حقیقۃ کلام اﷲ تعالٰی |
اہل سنت وجماعت نے جو کچھ مصاحف میں لکھا ہوا ہے اس کو حقیقۃً اﷲ تعالٰی کا کلام ٹھہرا یا اگرچہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع