30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صورتوں میں وہی صوت طبلہ ہے کہ بتجدد امثال سو۱۰۰ واسطوں سے کان تك پہنچتی اگر چہ ایك صورت میں سب وسائط ہوائیں ہیں اور دوسری میں بیچ کا ایك واسطہ یہ آلہ دونوں میں وہی سلسلہ چلا آتا ہے وہی طبلہ پرہاتھ پڑنا دونوں کا مبداء ہے تو کیا وجہ کہ ان سو واسطوں سے جو سناگیا وہ تو وہی صوت طبلہ ہو اور ان سو واسطوں کے بعد جو سنا گیا وہ اس کا غیر ہو اس کی تصویر اس کی مثال ہو یہ محض تحکم بے معنی ہے اصل تشکل اول جو قرع طبلہ سے پیدا ہوا اسے لیجئے تو وہ صورت اولٰی میں بھی ننانوے منزل اس پار چھوٹ گیا اور یکے بعد دیگرے اس کا سلسلہ قائم رہنا لیجئے تو وہ یقینا یہاں بھی حاصل پھر تفرقہ یعنی چہ۔علامہ سید شریف قدس سرہ الشریف شرح مواقف میں فرماتے ہیں:
|
الاحساس بالصوت یتوقف علی ان یصل الھواء الحامل لہ الی الصماخ لا بمعنی ان ھواء واحد بعینہ یتموج یتکیف بالصوت ویصلہ الی القوۃ السامعۃ بل بمعنی انمایجاور ذٰلك الھواء المتکیف بالصوت یتموج ویتکیف بالصوت ایضا وھکذا الی ان یتموج و یتکیف بہ الہواء الراکد فی الصماخ فتدرکہ السامعۃ حینئذ[1]۔ |
آواز کا احساس اس پر موقوف ہے کہ جو ہوا اس کو اٹھا رہی ہے وہ کانوں کے سوراخ تك پہنچے نہ اس معنی سے کہ بعینہٖ ایك ہی ہوا میں تموج پیدا ہو کر وہ کیفیت صوت سے متصف ہوجاتی ہے۔پھر آواز کو قوت سامعہ تك پہنچا دیتی ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو ہوا"متکیف بالصوت"ہے اس کے متصل مجا ور جو ہوا ہے اس میں موج پیدا ہوتی ہے پھر وہ بھی جز اول کی طرح متکیف بالصوت ہوجاتی ہے پھر یونہی یہ سلسلہ تموج اور تکیف آگے تك چلتا ہے اور بڑھتا ہے یہاں تك کہ اس ہوا میں موج پیدا ہوتی ہے جو کانوں میں ٹھہری ہے پھر وہ کیفیت صوت سے متصف ہوجاتی ہے پھر اس طرح قوت سامعہ آواز کا ادارك کرلیتی ہے۔(ت) |
اس کے متن مواقف مع الشرح میں ہے:
|
سبب الصوت القریب تموج الھواء ولیس تموجہ فھذا حرکۃ انتقالیۃ من ھواء واحد بعینہٖ بل ھو صدم بعد |
آواز کاسبب قریب ہوا میں موج پیدا ہونا ہے اور اس کا یہ تموج ایسی حرکت انتقالیہ نہیں جو بعینہٖ ایك ہوا سے ہو۔بلکہ وہ نوبت بہ نوبت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع