30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یطلق علی اللفظ من ای جنس من المخلوقات وھو الھواء الخارج من الصدر المنقطع بالشفتین و اللسان المتکیف الی الحروف والاصوات اھ [1] فھو کما تری تجوز منہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ الا تری انہ جعل فی اٰخر الکلا م الہواء متکیف بالحروف فالحروف کیفیات تحدث فی الھواء لانفسہ کماھو ظاھر ثم رأیتہ قدسنا اﷲ تعالٰی بسرہ الکریم صرح بہ نفسہ قبل ھذہ فی توضیح الاتی بہ فی فصل سر الاستنطاق" اذ قال اعلم ان الحروف علی ثلاثۃ انواع فکریۃ و لفظیۃ وخطیۃ فالحروف الفکریۃ وھی صور روحانیۃ فی افکار النفوس مصورۃ فی جواھرھا و الحروف اللفظیۃ ھی اصوات محمولۃ فی الھوی مدرکۃ بطریق الاذنین بالقوۃ السامعۃ والحروف الخطیۃ ھی نقوش خطت بالاقلام فی وجوہ الالواح [2] اھ فھذا ھو الحق الناصع وعلیہ المحققون واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
لفظ ہے کہ جس کا اطلاق لفظ پر کیاجاتا ہے خواہ مخلوق کی کسی جنس میں سے ہو،اور وہ ہوا ہے جو سینے سے برآمد ہوتی ہے دو ہونٹوں اور زبان سے قطع کی جاتی ہے حروف اور آواز سے متکیف ہوتی ہے(یعنی وہ ہوا حروف اور آواز کی کیفیت اختیار کرلیتی ہے)جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ وہ شیخ ابن عربی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا مجازی کلام ہے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ انھوں نے گفتگو کے آخر میں ہوا کو موصوف بہ کیفیت حروف قرار دیا ہے لہذا حروف ایسی کیفیات ہیں جو ہوا میں پید اہوتی ہیں نفس ہوا نہیں جیسا کہ ظاہر ہے پھر میں نے ان کے کلام میں دیکھا(اﷲ تعالٰی ہمیں ان کے بھید کریم کے طفیل پاك فرمائے)خود انھوں نے اس سے قبل اس کی تصریح فصل سر الاستنطاق میں کردی ہے جب کہا جان لیجئے،حروف کی تین قسمیں ہیں(۱)فکری(۲)لفظی(۳)خطی"حروف فکریہ"وہ افکار نفوس میں روحانی صورتیں ہیں جو اپنے جواھرمیں تصویر شدہ ہیں"حروف"لفظیہ وہ آوازیں ہیں جو ہواپر سوا ر ہیں۔دو کانوں کے ذریعے قوت سامعہ سے ان کا ادراك کیا جاتا ہے "حروف خطیہ"وہ ایسے نقوش،جو قلموں کے توسط سے الواح کے چہروں پر کشید کئے جاتے ہیں اھ پس یہی خالص اور واضح حق ہے اور اسی پر ائمہ تحقیق قائم ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع