30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تسمیۃ للکل باسم الجزء وعلی الاول تسمیۃ للعارض باسم المعروض وھذا ابعد من ذا ك لکن الموافق بقولھم وفا قا کلیا ھو ماقال المحققون ان الحرف صوت لاعارضۃ ولا المجموع ولذا قال چلپی نفسہ ان کون الحرف عبارۃ عن نفس المعروض انسب بذٰلك القول من المذھبین ولا مجاز فی ذٰلك الاطلاق علی ھذا التقدیر اصلا اھ [1]اقول:وکانّ مراد القائل بالمجموع انہ المعروض من حیث ھو معروض فلا ینافی قول المحققین انہ الصوت المعروض وبھذایتم الاستدلال لقول المجموع بکلام ائمۃ العربیۃ من دون اشکال فاستقر عرش التحقیق علی ان الحرف ھو الصوت المعروض وبہ اندفع التسمك رأسا ورأیت فی کلام اما م جمیع الفنون الاعرف بکلھا من اھلھا لسان الحقائق سید نا الشیخ الاکبر محی الدین ابن العربی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی کتابہ"الدر المکنون و الجوھر المصؤن" فی علم الجفر مانصہ اما الحرف فلفظ مشترك |
تسمیہ کل باسم الجزء اور قول اول کے مطابق تسمیۃ العارض باسم المعروض ہے۔اور یہ اس سے زیادہ بعید ہے۔لیکن وفاق کلی کے طور پر ان کے قول کے موافق وہ ہے۔جو کچھ اہل تحقیق نے فرمایا۔"حرف"صرف آواز ہے۔نہ عارض اورنہ عارض ومعروض کا"مجموعہ"ہے۔اسی لئے خود علامہ چلپی نے فرمایا "حرف"نفس معروض سے عبارت ہو یہ دو مذہبوں میں سے اس قول کے زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس تقدیر پر اس اطلاق میں بالکل مجاز نہیں اھ۔ اقول:(میں کہتاہوں)گویا قائل بالمجموعہ کی مرادیہ ہے کہ وہ معروض بحیثیت معروض ہے لہذایہ ائمہ تحقیق کی رائے کے منافی نہیں کہ وہ صوت معروض ہے پھر اس سے قول بالمجموعہ کا استدلال بغیر کسی اشکال ائمہ عربیہ کے کلام سے تام ہوجاتا ہے پس عرش تحقیق قرار پذیر ہوگئی کہ حرف وہی صوت معروض ہے اور اس سے استدلال بالکل دفع ہوگیا۔ میں نے ان کے کلام میں دیکھا جو تمام فنون کے امام سب کی اہلبیت رکھتے ہوئے جملہ علوم کے بڑے عارف،حقائق کی زبان ہمارے آقا،سب سے بڑے شیخ دین اسلام کو زندہ کرنیوالے"ابن عربی"رضی اﷲ تعالٰی عنہ انھوں نے اپنی کتاب"الدرالمکنون والجوھر المصؤن"جو علم جفر میں ہے اس کی عبارت یہ ہے"حرف"ایك مشترك |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع