30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاجزاء الاخیرۃ انما یصل علی وجہ التموج کما عرفت وثالثا الشیئ ینقطع بانقطاع شرطہ فلا یفید السببیۃ فضل عن الا قربیۃ وتمسك بعضھم بانھم انما لم یجعلوا القرع والقلع سببین للصوت ابتداء حتی یکون التموج والو صول الی السامعۃ سببا للاحساس بہ لا لو جودہ نفسہ بناء علی ان القرع وصول والقلع لا وصول وھما آنیان فلا یجوز کونھما سببین للصوت لانہ زمانی [1]اھ۔ اقول:التموج حرکۃ والحرکۃ زمانیۃ فکیف صار الانی سببا لہ وان جاز فلم لم یجز ان یکون سببا للصوت ابتداء وقرر بان التموج ان کان اٰنیا فقد جعلوا سببا للصوت الزمانی وان کان زمانیا فقد جعلوا القرع والقلع الانیین سببا لہ فجعل الا نی سببا للزمانی لزم علی کل تقدیر [2]واجاب عنہ العلامۃ |
اس لئے کہ تموج منقطع ہوجاتا ہے کیونکہ قرع منقطع ہوگیا کیونکہ آخری اجزاء میں قرع علی وجہ التموج پہنچتا ہے جیسا کہ تم جانتے ہو،ثالثا انقطاع شرط کی وجہ سے شے منقطع ہوجاتی ہے(یعنی شرط نہ ہو تو مشروط بھی نہ پایا جائے گا)لہذا یہ سبب ہونے کے لئے مفید نہیں چہ جائیکہ قریب ہونے کے لئے مفید ہو،اور بعض لوگوں نے یہ استدلال پیش کیا کہ اہل علم نے قرع اور قلع کو ابتداء آواز کے لئے سبب نہیں قرار دیا حتی کہ تموج اور وصول الی السامعۃ اس کے احساس کا سبب ہوجائیں نہ کہ اس کے نفس وجود کا اس لئے کہ قرع وصول ہے اور قلع لاوصول ہے۔او ر وہ دونوں"آنی"ہیں لہذا یہ دونوں آواز کے لئے سبب نہیں ہوسکتے اس لئے کہ وہ زمانی ہے۔اھ۔ اقول:(میں کہتاہوں)تموج حرکت ہے۔___ اور حرکت، زمانی ہوا کرتی ہے پھر جو چیز آنی ہے وہ اس کا کیسے سبب ہوسکتی ہے اور گر یہ جائز ہے تو پھر یہ کیوں نہیں جائز کہ ابتداء آواز کے لئے سبب ہو،اور اس کی تقریر یوں کی گئی کہ"تموج"آنی ہے تو خود انھوں نے اس کو صورت زمانی کے لئے سبب قرار دیا ہے اور اگر وہ زمانی ہے تو پھر انھوں نے قرع اور قلع جو کہ دونوں آنی ہیں اس کے لئے سبب ٹھہرائے،گویا ہر تقدیر پر آنی کا زمانی کے لئے سبب ہونا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع