30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
للفلاسفۃ من غیر تعرض لبیان البطلان الافیما یحتاج الی زیادۃ بیان والصوت عندھم کیفیۃ تحدث فی الھواء بسبب تموجہ المعلول للقرع والقلع [1]۔ |
کے افکار باطلہ کو تو پیش کردیا جاتاہے لیکن ان کے بطلان کو نہیں بیان کیا جاتا مگر جبکہ اضافہ بیان کی ضرورت ہو آواز ان کے نزدیك ایك ایسی کیفیت ہے جو ہوا میں اس کے تموج کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جو"قرع"اور"قلع"کا معلول ہے۔(اور وہ دونوں اس کی علت ہیں)۔(ت) |
فلاسفہ خطا کاری وغلط شعاری کے عادی ہیں اور مقتضائے نظر صحیح یہی ہے کہ اس کیفیت کے حدوث کو قلع وقرع بس ہیں تموج کی حاجت نہیں۔
اوّلًا: قرع وقلع سے ہوا دبے گی اور اپنی طاقت ورطوبت کے باعث ضرور اس کی شکل وکیفییت قبول کرے گی اسی کا نام آواز ہے اور صرف یہ دبنا تموج نہیں بلکہ اس کے سبب اس کی ہوائے مجاور متحرك ہوگی اور وہ اپنی متصل ہوا کو حرکت دے گی یہاں یہ صورت تموج کی ہے۔خود مواقف وشرح میں فرمایا:
|
لیس تموجہ ھذا حرکۃ انتقالیۃ من ھواء واحد بعینہ بل ہو صدم بعد صدم وسکون بعد سکون فھو حالۃ شبیھۃ بتموج الماء فی الحوض اذا القی حجر فی وسطہ [2]۔ |
بعینہٖ ایك ہوا کا"تموج"حرکت انتقالی نہیں اس لئے کہ بار بار دباؤ اور سکون بعد سکون ہے لہذا یہ اس حالت کے بالکل مشابہ ہے کہ جب کسی تالاب کے درمیان پتھر پھینکا جائے تو پانی میں موج(اور لہریں)پیدا ہوجاتی ہیں۔(ت) |
شرح مقاصد میں فرمایا:
|
المراد بالتموج حالۃ مشبھۃ بتموج الماء تحدث بصدم بعد صدم وسکون بعد سکون [3]۔ |
تموج سے مراد ایك ایسی حالت ہے جو پانی کے تموج سے مشابہ ہے اور وہ نوبت بہ نوبت ٹکراؤ اور سکون بعد سکون کے پیداہوتی ہے۔(ت) |
ظاہر ہے کہ مقروع اول میں جو تکیف وتشکل ہوا اس کے لئے صرف اسی کا انفعال درکار تھا بعد کے موجی سلسلہ کو اس میں کیا دخل۔اگر فرض کریں کہ مقروع اول کے بعد ہوا نہ ہوتی یا وہ قرع کا اثر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع