30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قاعدہ اس متحرك ومحرك اول کی طرف ہے اور راس اس کے تمام اطراف مقابلہ میں جہاں تك کوئی مانع نہ ہو جس طرح زمین یہ مخروط ظلی اور آنکھ سے مخروط شعاعی،نہیں نہیں بلکہ جس طرح آفتاب سے مخروط نوری نکلتا ہے کہ ہر جانب ایك مخروط ہوتا ہے بخلاف مخروط ظل کہ صرف جہت مقابل جرم مضی مخروط شعاع بصر کہ تنہا سمت مواجہہ میں بنتا ہے ان مخروطات تموج ہوائی کے اند ر جو کان واقع ہو ں ایك ایك ٹھپاسب تك پہنچے گا سب اس آوازوکلام کو سنیں گے اور جو کان ان مخروطیوں سے باہر رہے وہ نہ سنیں گے کہ وہاں قرع و قلع واقع نہ ہو ا اور ٹھپوں کے تعدد سے آواز متعدد نہ سمجھی جائے گی یہ کوئی نہ کہے گا کہ ہزار آوازیں تھیں کہ ان ہزار اشخاص نے سنیں بلکہ یہی کہیں گے کہ وہی ایك آواز سب کے سننے میں آئی اگر چہ عندالتحقیق اس کی وحدت نوعی ہے نہ کہ شخصی،اس تقریر سے بحمداﷲ تعالٰی وہ ساتوں سوال منکشف ہوگئے۔
(۱)آواز اس شکل وکیفیت مخصوصہ کا نام ہے کہ ہوا یا پانی وغیرہ جسم نرم وتر میں قرع یا قلع سے پیدا ہوتی ہے قول مشہور میں کہ ہوا کی تخصیص فرمائی،مواقف اور اس کی شرح میں ہے:
|
الصوت کیفیۃ قائمۃ بالھواء یحملھا الھواء الی الصماخ [1]۔ |
آواز ایك ایسی کیفیت(حالت)ہے جو ہواکے ساتھ قائم ہوتی ہے پھر ہوا ہی اسے اٹھا کر(یعنی اوپر سوا کرکے)کانوں کے پردے تك پہنچادیتی ہے۔(ت) |
مقاصد اور اس کی شرح میں ہے:
|
کیفیۃ تحدث فی الھواء بسبب تموجہ [2] الخ۔ |
"آواز"ایك ایسی کیفیت ہےکہ جو ہوا میں اس کی موج پیدا ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔الخ(ت) |
اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)یہ نظریہ اکثر ہے ورنہ ملائے آب میں بھی آواز سنی جاتی ہے۔دو شخص چند گز کے فاصلہ سے تالاب میں غوطہ لگائیں اور ان میں ایك دو اینٹیں لے کر بجائے تو دوسرے کو ان کا کھٹکا مسموع ہوتا ہے اور اس آواز کا حامل پانی ہی ہے اور کان تك موصل اسی کا تموج کہ پانی کے اندر ہوا نہیں ہوتی ہاں پانی اتنا تر ولطیف نہیں جس قدر ہوا ہے لہذا اس کا تشکل وتادیہ دونوں بہ نسبت ملائے ہوا کے ضعیف ہوتے ہیں۔
(۲)اس کا اور تمام حوادث کا سبب حقیقی محض ارادہ الٰہی ہے۔دوسری چیز اصلا نہ موثر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع