30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مخصوصہ کا نام آوا ز ہے اسی صورت قرع کی فرع ہے کہ زبان وگلوئے متکلم وقت تکلم کی حرکت سے ہو ائے دہن کو بجا کر اس میں اشکال حرفیہ پیدا کرتی ہے یہاں وہ کیفیت مخصوصہ اس صورت خاصہ کلام پربنتی ہے جسے قدرت کاملہ نے اپنے ناطق بندوں سے خاص کیا ہے یہ ہوائے اول یعنی جس پرابتداء وہ قرع وقلع واقع ہوا جیسے صورت کلام میں ہوائے دہن متکلم اگر بعینہٖ ہوائے گوش سامع ہوتی تو یہیں وہ آواز سننے میں آجاتی مگر ایسا نہیں لہذا حکیم عزت حکمتہ نے اس آواز کو گوش سامع تك پہنچانے یعنی ان تشکلات کو اس کی ہوائے گوش میں بنانے کے لئے سلسلہ تموج قائم فرمایا۔ظاہر ہے کہ ایسے نرم وتر اجسام میں تحریك سے موج بنتی ہے جیسے تالاب میں کوئی پتھر ڈالو یہ مجاور اجزائے آب کو حرکت دے گا وہ اپنے متصل وہ اپنے مقارب کو جہاں تك کہ اس تحریك کی قوت اور اس پانی کی لطافت اقتضا کرے یہی حالت بلکہ اس سے بہت زائد ہوا میں ہے کہ وہ لینت ورطوبت میں پانی سے کہیں زیادہ ہے لہذاقرع اول سے کہ ہوائے اول متحرك ومتشکل ہوئی تھی اس کی جنبش نے برابر والی ہوا کو قرع کیا اس سے وہی اشکال ہوائے دوم میں بنیں اس کی حرکت نے متصل کی ہوا کو دھکادیا اب اس ہوائے سوم میں مرتسم ہوئیں یوں ہی ہوا کے حصے بروجہ تموج ایك دوسرے کو قرع کرتے اور بوجہ قرع وہی اشکال سب میں بنتے چلے گئے یہاں تك کہ سوراخ گوش میں جو ایك پٹھا بچھا اور پردہ کھچا ہے یہ موجی سلسلہ اس تك پہنچا اور وہاں کی ہوائے متصل نے متشکل ہو کر اس پٹھے کو بجایا یہاں بھی بوجہ جوف ہوا بھری ہے اس قرع نے اس میں بھی وہی اشکال وکیفیات جن کا نام آواز تھا پیدا کیں اور اس ذریعہ سے لوح مشترك میں مرتسم ہوکر نفس ناطقہ کے سامنے حاضر ہوئیں اور محض باذن اﷲ تعالٰی ادراك سمعی حاصل ہوا،الحاصل ہر شے کا سبب حقیقی ارادہ اﷲ عزوجل ہے بے اس کے ارادے کے کچھ نہیں ممکن اور وہ ارادہ فرمائے تو اصلا کسی سبب کی حاجت نہیں مگر عالم اسباب میں حدوث آواز کا سبب عادی یہ قرع وقلع ہے اور اس کے سننے کا وہ تموج وتجدد وقرع وطبع تاہوائے جوف سمع ہے متحرك اول کے قرع سے ملا مجاور میں جو شکل وکیفیت مخصوصہ بنی تھی کہ شکل حرفی ہوئی تو وہی الفاظ وکلمات تھے ورنہ اور قسم کی آواز اس کے ساتھ قرع نے بوجہ لطافت اس مجاور کو جنبش دی اس کی جنبش نے اپنے متصل کو قرع کیا اور وہی ٹھپاکہ اس میں بنا تھا اس میں اترگیا یو نہی آواز کی کاپیاں ہوتی چلی گئیں اگرچہ جتنا فصل بڑھتا اور وسائط زیادہ ہوتے جاتے ہیں تموج وقرع میں ضعف آتا جاتا اور ٹھپا ہلکا پڑتا ہے ولہذا دور کی آواز کم سنائی دیتی ہے اور حروف صاف سمجھ نہیں آتے یہاں تك کہ ایك حد پر تموج کہ موجب قرع آئندہ تھا ختم ہوجاتا ہے اور عدم قرع سے اس تشکل کی کاپی برابر والی ہو ا میں نہیں اترتی آواز یہیں تك ختم ہوجاتی ہے۔یہ تموج ایك مخروطی شکل پر ہوتا ہے جس کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع