30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
"القول الواضح فی ردالخفاء الفاضح"زعم فیھا ان ما یسمع من ذٰلك الصندوق لیس اصوات الاصل ولا مساویا لھا انما یشبھھما فی اصل الصوت کالصدا وھو لھما کالخیال من عالم المثال وبنی علیہ جواز ان تسمع منہ اصوات الالات اذ ماھی ھی ومایتعدی حکم الاصل الی الحکایۃ کما قال ابن حجر المکی وغیرہ فی رؤیۃ صورۃ عورۃ المرأۃ فی المراۃ وقد کنت کتبت فی ابطال ھذا الوھم عدۃ فی مکۃ المکرمۃ فی صفر ۱۳۲۴ھ حین عرض علی صاحبنا الفاضل الکامل النبیل النبیہ ذوقلب فقیہ و طبع وقاد وذھن نقادالشیخ محمد علی المکی المالکی امام المالکیۃ ومدرس المسجد الحرام ابن مفتیھم بھا مولینا العلامۃ المرحوم بکرم اﷲ تعالٰی الشیخ حسین الازھری المکی رسالۃ لہ فی ھذا الباب سماھا انوار الشروق فی احکام الصندوق"وھو حفظہ اﷲ |
اس کا نام القول الواضح فی ردالخطاء الفاضح(یعنی بالکل واضح اور ظاہر بات رسوا کرنیوالی خطا کے بیان میں)رکھا پس انھوں نے اس میں یہ خیال کیا کہ جو کچھ اس صندوق سے سنائی دیتا ہے وہ اصل آواز اور اس کے مساوی نہیں بلکہ وہ اصل آواز کی شبیہ ہے۔جیسے آواز بازگشت اور اس کی گونج،جیسے خیال عالم مثال سے،اور اس پر یہ بنیاد رکھی کہ آلات سے آوازیں سننی جائز ہیں،کیونکہ وہ آوازیں اصل اور حقیقی آوازیں نہیں اور حکم اصل حکایت کی طرف متجاوز نہیں ہوتا،جیسا کہ علامہ ابن حجر وغیرہ نے ارشاد فرمایا جیسا کہ آئینہ میں جائے ستر کی صورت کا دیکھنا،اور میں نے اس وہم کو باطل قراردینے پر چند اوراق مکہ مکرمہ کی اقامت کے زمانے ماہ صفر ۱۳۲۴ھ میں تحریر کئے جب میرے سامنے ہمارے دوست(ساتھی)کامل،فاضل، شریف،سمجھدار، فقیہ دل رکھنے والے بھڑ کیلی طبیعت اور ناقد ذہن رکھنے والے،شیخ محمد علی مکی مالکی(امام مالك کے پیرو کار)جو کہ مذہب امام مالك رکھنے والوں کے امام اور مسجد حرام میں مدرس اوروہاں ان کے مفتی کے صاحبزادے ہیں اور وہ مولانا علامہ اﷲ تعالٰی کے کرم سے ان پر رحم کیا جائے،شیخ حسین ازہری مکی ہیں،اس باب میں اپنا ایك رسالہ بنام انوار الشروق فی احکام الصندوق(یعنی چمکیلے انوار،صندوق کے احکام شرعی کے بیان میں)انھوں نے مجھے پیش کیا اﷲ تعالٰی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع