30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خطبہ ووعظ محض نادانی ہے۔میلاد شیرف ذکر نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ہے اور ذکر نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عین ذکر الٰہی ہے۔حدیث میں ہے۔رب عزوجل نے فرمایا:
|
جعلتك ذکرا من ذکری فمن ذکرك فقد ذکرنی [1]۔ |
اے محبوب! میں نے اپنے ذکر سے تمھیں ایك ذکر بنایا تو جس نے تمھارا ذکر کیا اس نے بیشك میرا ذکر کیا۔ |
تو میلاد شریف خطبہ ووعظ بھی ہے اور خطبہ ووعظ بھی ذکر نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے خالی نہیں ہوسکتے تو سب شے واحد ہیں ور خود صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مسجد مدینہ طیبہ میں حسان بن ثابت انصاری رضی الله تعالی عنہ کے واسطے منبر بچھاتے اور وہ اس پر قیام کرکے حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی نعت اور مشرکین کا رد سناتے [2]۔والله تعالٰی اعلم۔
(۲)منبر مسند نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ہے۔جاہل اردو خوان اگر اپنی طرف سے کچھ نہ کہے بلکہ عالم کی تصنیف پڑھ کر سنائے تو اس میں حرج نہیں جبکہ وہ جاہل فاسق مثلا داڑھی منڈا وغیرہ نہ ہوکہ اس وقت وہ جاہل سفیر محض ہے اور حقیقۃ وعظ اس عالم کا جس کی کتاب پڑھی جائے اور اگر ایسا نہیں بلکہ جاہل خود بیان کرنے بیٹھے تو اسے وعظ کہنا حرام ہے اور اس کا وعظ سننا حرام ہے۔اور مسلمانوں کو حق ہے بلکہ مسلمانوں پر حق ہے کہ اسے منبر سے اتاردیں کہ اس میں نہی منکر ہے اور نہی منکر واجب ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
_____________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع