30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۸۰: از بنارس محلہ انبیالی منڈی مسئولہ محمد عمر صاحب سنی حنفی قادری رضوی ۴ رجب ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ منجانب خلافت کمیٹی ایك روپیہ کا نوٹ شائع ہوا ہے جس میں قرآن پاك کی پوری ایك آیت لکھی پس مسلمان یا ہنود کے ہاتھ فروخت کرنا کیسا ہے کیا مسلمان اس کو ہر حالت پاکی وناپاکی میں لے سکتا ہے یا نہیں اور اس کے فروخت کرنے والے پر کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
اس پرچہ پر کہ ہر کس وناکس ہر پاك وناپاك ہر کافر ومشرك ہر بھنگی چمار کے ہاتھ میں جانے کے لئے وضع کیا گیاہے قرآن کریم کی آیت لکھنا اسے بے ادبی کے لئے پیش کیا ہےت بے وضو اس کا چھونا جائز نہیں اگر آیہ کریمہ کے سوا انس میں اور کتابت نہ ہوا اور اگر اور کفایت زائد ہے تو آیہ کریمہ جس جگہ لکھی ہے اس پر بے وضو ہاتھ لگنا حرام ہے اور خواہ اسی رخ ہو جدھر آیت لکھی ہے یا دوسرے رخ ہر طرف ناجائز ہے اور اسے کافر کے ہاتھ فروخت نہ کریں اور اس کا بیچنا بے ابی ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۱ تا ۱۸۲:از ریاست کوٹہ راجپوتانہ متصل گھنٹہ گھر مسجد مدار کا چلہ مسئولہ حافظ جان محمد امام مسجد مذکورہ ۲۹ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں جواب مع حوالہ کتب اہلسنت سے مرحمت فرمایا جائے:
(۱)بعد نماز جمعہ کوئی عالم یا میلاد خوان منبر پر بیٹھ کر میلاد شریف پڑھے تو جائز ہے یا نہیں؟ اور عام طو ر پر بھی منبر پر بیٹھ کر میلاد شریف پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ کیا منبر محض وعظ وخطبہ ہی کے لئے ہے؟ اگر چند مسلمان زید کو بعد نماز جمعہ مسجد میں منبر پر میلاد شریف پڑھنے کے لئے بٹھائیں اور چند لوگ کہیں کہ اگر تم میلاد شریف پڑھنا ہے تو منبر پر مت بیٹھو بلکہ تخت پر بیٹھو ہم منبر پر نہیں پڑھنے دیں گے اور نہیں پڑھنے دیا۔ایسے لوگوں کے لئے کا حکم ہے؟
(۲)زیدنے محض فقہ کی تین کتابیں پڑھی ہیں،اردو بولنے اور صحیح املا لکھنے کی لیاقت نہیں ہے۔اور صرف ونحو سے بالکل ناواقف ہے حتی کہ میزان الصرف نہیں جانتا بلکہ صرف ونحو کے پڑھنے کو حرام اور اس کے پڑھنے والے کو اچھا نہیں جانتا اور فارسی بھی نہیں جانتا،ایسے شخص کو منبر پر بیٹھ کر وعظ کہنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر منبر پر بیٹھ جائے تو اس کو مسلمان منبر سے اتار سکتے ہیں یا نہیں ؟ از روئے شرع کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
(۱)میلاد شریف منبر پر پڑھنا بلا شبہہ جائز ہے اور یہ فرق کہ میلاد شریف تخت پر ہو منبر پر صرف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع