30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۶۶: از فیض آباد مرسلہ محمد خلیل ۲۱ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند قرآن بوسیدہ اور تمام اوراق ان کے پھٹ پھٹ کر علیحدہ ہوگئے ہیں اس حالت میں وہ اوراق ادھر اُدھر زمین پرپائے جاتے ہیں اس طرح نہایت ہی خرابی ہے اور گناہ بھی بیحدہوتا ہے تو کیا ان کو جلا کر کسی جاری پانی میں ڈالا جائے یا بے جلائے کسی کپڑے میں مع پتھر کے باندھ کر کنویں میں ڈالا جائے۔بینوا توجروا(بیان فرمائیے ثواب پائیے۔ت)
الجواب:
اسے مثل دفن کریں یعنی ان اوراق کو جمع کرکے پاك کپڑے میں لپیٹیں اور ایسی جگہ جہاں پاؤں نہ پڑتا ہوں عمیق بغلی قبر اس کے لائق کھود کر اس میں سپرد کردیں۔درمختا رمیں ہے:
|
المصحف اذا صار بحال لایقرأ فیہ یدفن کالمسلم [1]۔ |
مصحف شریف کی جب ایسی حالت ہوجائے کہ اسے پڑھا نہ جاسکے تو پھر اسے مسلمان کی طرح(احترام سے)دفن کردے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
ای یجعل فی خرقۃ طاھرۃ یدفن فی محل غیر ممتھن لایؤطأ وفی الذخیرۃ وینبغی ان یلحد لہ ولا یشق لہ لانہ یحتاج الی اھالۃ التراب علیہ وفی ذٰلك نوع تحقیر الا اذا جعل فوقہ سقفا بحیث لایصل الیہ فھو حسن ایضا[2] اھ اقول: الشق قد ینھدم فاللحد اولٰی۔ |
یعنی اس صورت میں اسے کسی صورت میں پاك کپڑے میں لپیٹ کر کسی ایسی جگہ دفن کیا جائے جہاں نہ تو اس کی توہین ہو اور نہ لوگوں کے پاؤں سے پامال ہو،اور ذخیرہ میں ہے مناسب یہ ہے کہ اس کے لئے"لحد"(یعنی بغلی قبر)بنائی جائے لیکن"شق" (سیدھی)نہ ہو کیونکہ اس صورت میں اس پر یعنی اس کے اوپر مٹی ڈالنے کی ضرورت میں اس پر یعنی اس کے اوپر مٹی ڈالنے کی ضرورت پیش آئے گی کہ جس میں ایك قسم تحقیر ہے۔ہاں اگر اس قبر پر چھت بنائی جائے کہ اس تك مٹی نہ پہنچے تو پھر یہ بھی ایك اچھی صورت ہے اھ۔میں کہتاہوں شق(سیدھی قبر)کبھی گرجاتی ہے لہذا بغلی قبر ہی زیادہ بہتر ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع