30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعالٰی او اسم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یجوز محوہ لیلف فیہ شیئ [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
الله تعالٰی کا مقدس نام یا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا اسم گرامی تحریر ہو تو اسے مٹادینا جائز ہے تاکہ اس میں کوئی چیز لپیٹی جاسکے۔اور الله تعالٰی سب کچھ بخوبی جانتاہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۶۳: از شہر محلہ ذخیرہ مسئولہ شیخ شوکت علی صاحب فاروقی ۱۲ ذوالحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں،مسجد کے اندر سوال کرنا اپنے یا غیر کے واسطے اور سائل کو دینا اس کے یا غیر کے واسطے جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
جو مسجد میں غل مچادیتے ہیں نمازیوں کی نماز میں خلل ڈالتے ہیں لوگوں کی گردنیں پھلانکتے ہوئے صفوں میں پھرتے ہیں مطلقًا حرام ہے اپنے لئے خواہ دوسرے کے لئے،حدیث میں ہے:
|
جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم ورفع اصواتکم رواہ ابن ماجۃ [2]عن واثلۃ بن الاسقع و عبدالرزاق عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
مسجدوں کو بچوں اور پاگلوں اور بلند آواز سے بچاؤ(محدث ابن ماجہ نے حضرت واثلہ بن اسقع سے اور امام عبدالرزاق نے حضرت معاذ بن جبل سے اس کو روایت کیا،الله تعالٰی ان دونوں سے راضی ہو۔ت) |
حدیث میں ہے:
|
من تخطی رقاب الناس یوم الجمعۃ اتخذ جسرا الی جہنم،رواہ احمد والترمذی[3] وابن ماجۃ عن معاذ بن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اس نے جہنم تك پہنچنے کا اپنے لئے پل بنالیا(امام احمد اور جامع ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت معاذبن انس رضی الله تعالٰی عنہ سے اس کو روایت کیا۔ت) |
[1] فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۲۲
[2] المصنف لعبد الرزاق باب انشادالضالۃ فی المسجد حدیث ۱۷۲۶ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۴۴۲،سنن ابن ماجہ کتاب المساجد باب مایکرہ فی المساجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۵
[3] جامع الترمذی کتاب الجمعۃ باب کراھیۃ التخطی یوم الجمعۃ امین کمپنی دہلی ۱ /۶۸،سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی النہی عن تخطی الناس یوم الجمعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۷۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع