30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے لئے نہیں بنائی گئیں۔ت)والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۰: از میرٹھ مرسلہ مولوی حبیب الله صاحب قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیر نگر مدرس مدرسہ قومیہ
اوراد و وظائف مقررہ کو اتفاقیہ بلاوضو پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر ناغہ ہوں تو دوسرے وقت قضاء ہوسکتے ہیں یا نہیں اور پڑھتے میں اگر کوئی شخص سلام کرے یاہم کلام ہو تو اس کا جواب دیا جائے یا نہیں؟
الجواب:
وظائف جو احادیث میں ارشاد ہوئے یا مشائخ کرام نے بطور ذکر الٰہی بتائے انھیں بلا وضو بھی پڑھ سکتے ہیں اور باوضو بہتر،ان میں حسب حاجت بات بھی کرسکتاہے یعنی نیك بات مگر وہ وظیفہ جس میں عدم کلام کی شرط فرمادی ہے جیسے صبح و عصر کی نماز کے بعد بغیر پاؤں بدلے بغیر بات کئے دس بار"لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریك لہ لہ الملك ولہ الحمد بیدك الخیر یحی ویمیت وھو علی کلی شیئ قدیر پڑھنا"اس میں بات نہ کی جائے۔اور ذاکر پر سلام کرنا مطلقًا منع ہے اور اگر کوئی کرے تو ذاکر کواختیار ہے کہ جواب دے یا نہ دے۔ہاں اگر کسی کے سلام یا جائز کلام کا جواب نہ دینا اس کی دل شکنی کا موجب ہو تو جواب دے کہ مسلمان کی دلدادی وظیفہ میں بات نہ کرنے سے اہم واعظم ہے۔یہ وظائف اگر وقت خاص سے مختص ہیں اور وہ وقت نکل گیا تو ان کی قضا نہیں ورنہ دوسرے وقت پڑھ لئے جائیں کہ ثواب ملے اور عادت نہ چھوٹے،یہ احکام وظائف واذکار کے تھے رہے اعمال کہ ارباب عزائم مقرر کرتے ہیں ان کی زکوٰۃ میں تو روزانہ غسل شرط ہے وہ بھی غسل پاك یعنی بحالت طہارت نہانا، یہاں تك کہ اگر نہانے کی حاجت ہوجائے تو غسل جنابت کرکے دوبارہ پھر نہائے اور ان کی ورد میں کہ عم بجا رہنے کے لئے مقررکیا جاتاہے وضوشر ط ہے بلاوضو نہیں پڑھ سکتا نہ ان کی زکوٰۃ یا ورد میں ہر گز بات کرسکتا ہے مگر جو بات شرعًا فی الحال فرض ہو اس کے لئے بمجبوری قطع قراءت لازم،مثل یہ عمل پڑھ رہا ہے اور ماں باپ نے آواز دی جواب دینا فرض ہے۔یا کسی کافر نہ کے کہا مجھے مسلمان کرلے قطع عمل فرض ہے یہاں تك کہ جو مسلمان ہونا مانگے اس کے لئے تو فرض نماز کی نیت فورا توڑ دینی واجب ہے یا کوئی مسلمان کنویں میں گرا جاتاہے کسی لکڑی یا اینٹ سے رکا ہوا ہے اگر دیر کی جائے گی گر پڑے گا اور وہ آواز دے یا یہ دیکھے اور بچانا اس پر متعین ہو تو فرض ہے کہ عمل بلکہ فرض نماز قطع کرے اور اسے بچائے وقس علیہ مگر ان سب صورتوں میں جتنا پڑھ لیا تھا محسوب نہ ہوگا بلکہ از سر نو پڑھے اعمال میں قضا بھی نہیں اگر وسط زکوٰۃ میں کئی دن ناغہ ہوگیا تو زکوٰۃ نہ ہوئی پھر ادا کرے اور کسی دن کا ورد ناغہ ہونے کو ہو تو اس کی نیت سے اس دن ایك بار سورۃ فاتحہ ایك بار آیۃ الکرسی پڑھ لے وہ ناغہ نہ گنا جائے گا نہ اس کی قضا ہوگی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع