30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جانا۔علامہ برہان الدین حیدر بن الہروی تلمیذ علامہ تفتازانی پھر فاضل شمس الدین اصبہانی اپنی تفسیر جامع بین الکبیر والکشاف میں کشاف کے محاسن لکھ کر فرماتے ہیں:
|
الا انہ لاخطانہ سلوك الطرق الادبیۃ المتزم فی کتابہ امورا ادھشت رونقہ و ابطلت منظرہ فتکدرت مشارعہ و تنزلت زینتہ منھا انہ لشغفہ باظھار الفضائل والکمالات وان یعرف انہ مع تبحرہ فی العلوم موصوف بلطائف المحارۃ ونفاس المحاضرۃ اورد فیہ ابیاتابنی علی الھزل والفکاھۃ اساسھا وھذا امر من الشرع والعقل بعید اھ [1] ملتقطا۔ |
مگر یہ کہ زمحشری اس وجہ سے ادبی طریقوں پر چلنے سے غلط ہوگیا کہ اس نے اپنی کتاب میں ایسے امور کا اہتمام کیا کہ جن سے ان کی رونق دہشت زدہ ہوگئی اور ان کا منظر باطل ہوگیا اور اس کے پانی کی نالیاں گدلی ہوگئیں اور اس کی زیب وزینت نیچی ہوگئی۔ان میں سے ایك بات یہ ہے کہ وہ فضائل وکمالات کے اظہار کا دلدادہ ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اس بات کا تعارف ہوجائے کہ وہ علوم میں سمندر کی حیثیت رکھنے کے باوجود دلچسپ محاورہ اور نفیس چٹکلوں سے موصوف ہے۔ اس لئے اس نے کتاب میں کچھ ایسے اشعار پیش کئے کہ جن کی بنیاد ہنسی مذاق اور خوش طبعی پر ہے۔اور یہ بات شریعت اور عقل کے اعتبار سے امربعید ہے اھ ملتقطا۔(ت) |
نہ کہ انگریزی کا اوپر اور آئہ
کریمہ کا نیچے ہونا نہ کہ تین درجے بلندی یہاں علو وسفل ضرور عرفا تعظیم و بے
تعظیمی کا مشعر ہوتا ہے ولہذا مروی ہوا کہ انگشتری مبارك حضور سید المرسلین صلی الله
تعالٰی علیہ وسلم میں کہ محمد رسول الله منقوش تھا سطر بالا میں کلہ جلالت تھا اور
سطر دوم میں رسول سوم میں نام اقدس اس شکل پر
ظاہر جبھی سے مہروں میں یہ رسم ہے کہ نیچے سے اوپر کو پڑھی جاتی
ہے۔علامہ اسنوی پھر علامہ ابن رجب وغیرہما فرماتے ہیں:
|
کتابتہ کانت من اسفل الی فوق یعنی الجلالۃ اعلی الاسطر الثلاثۃ ومحمد اسفلھا ویقرا من اسفل [2]۔ |
مہر میں لکھائی نیچے سے اوپر کی طرف ہوتی ہے یعنی الله تعالٰی کا بارعب نام تین سطروں میں اوپر مذکور ہے اور حضور پاك کا اس گرامی سب سے نیچے ہے اور پھر نیچے کی طرف سے پڑھا جاتاہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع