30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۳۴: مسئولہ عبدالرحمن از گگرہ ضلع کھیری بروز شنبہ بتاریخ ۱۱ شعبان المعظم۱۳۳۴ھ
چہ میفرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ(کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں۔ت) کہ زید عرصہ اٹھارہ سال سے سفرحضر معمولی علالت میں بہ پابندی بعد ادائے نماز فجرتلاوت قرآن مجید کیا کرتا ہے گو دنیاوی تعلقات اور گونا گوں تفکرات اسے بہت ہی لاحق ہیں مگر وہ اس فرض کو ہرحالت میں انجام دیتا رہتا ہے مگر بوجہ کم استعداد ہونے کے وہ مطالب سے لاعلم رہتا ہے اسی صورت میں وہ مترجم قرآن مجید لفظی اردو یا فارسی کا ترجمہ دیکھ کر روزانہ بجائے دو پارہ ایك ربع یا اس سے کم وبیش تلاوت کرے یا حسب معمول روزانہ دو پارہ تلاوت کرے۔دونوں میں سے کون افضل ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
احب الاعمال الی اﷲ ادومھا وان قل [1]۔ |
الله عزوجل کو سب سے زیادہ وہ عمل پسندہے جو ہمیشہ ہو اگرچہ کم ہو۔ |
اور فرماتے ہیں صلی الله تعالٰی علیہ وسلم:
|
لا تکن مثل فلان کان یقوم اللیل ثم ترك قیام اللیل [2]۔ |
فلاں کی طرح نہ ہونا تہجد پڑھاکرتا تھا پھر چھوڑ دیا۔ |
مہینے میں دو ختم خیر کثیر ہے اور جب اٹھارہ سال سے اس کا التزام ہے تو اس میں کمی ہر گز نہ کی جائے وفیہ حدیث عبداﷲ ابن عمر و رضی اﷲ تعالٰی عنہما(اور اس بارے میں حضرت عبدالله ابن عمرو رضی الله تعالٰی عنہما کی حدیث موجود ہے۔ت)قرآن عظیم کے مطالب سمجھنا بلا شبہہ مطلوب اعظم ہے مگر بے علم کثیرہ کافی کے ترجمہ دیکھ کر سمجھ لینا ممکن نہیں بلکہ اس کے نفع سے اس کا ضرر بہت زیادہ ہے جب تك کسی عالم ماہر کامل سنی دیندار سے نہ پڑھے خصوصا اس حالت میں کہ ترجمہ شیخ سعدی رضی الله تعالٰی عنہ کے سوا آج تك اردو فارسی جتنے ترجمے چھپے ہیں کوئی صحیح نہیں بلکہ ان باتوں پر مشتمل ہیں کہ بے علم بلکہ کم علم کو بھی گمراہ کردیں۔واﷲ یقول الحق وھو یھدی السبیل حسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع