30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ وصول کرو۔ت)کے مخالف۔وہ آمدنی ان کے حق میں خبیث ہے خصوصا جبکہ ایسے حاجتمند نہ ہوں جن کو سوال کی اجازت ہے کہ اب تو بے ضرورت سوال دوسرا حرام ہوگا اور وہ آمدنی خبیث تر وحرام مثل غصب ہے، عالمگیریہ میں ہے:
|
ماجمع السائل بالتکدی فھو خبیث [1]۔ |
سائل نے کدوکاوش سے جوکچھ جمع کیا وہ ناپاك ہے۔(ت) |
دوسرے یہ کہ وعظ حمد ونعت سے ان کا مقصود محض الله ہے اور مسلمان بطور خود ان کی خدمت کریں تو یہ جائز ہے اور وہ مال حلال،تیسرے یہ کہ وعظ سے مقصود تو الله ہی ہو مگر ہے حاجتمند اورعادۃ معلوم ہے کہ لوگ خدمت کریں گے اس خدمت کی طمع بھی ساتھ لگی ہوئی ہے تو اگرچہ یہ صورت دوم کے مثل محمود نہیں مگر صور اولٰی کی طرح مذموم بھی نہیں جسے درمختار میں فرمایا:
|
الوعظ لجمع المال من ضلالۃ الیھود و النصارٰی [2]۔ |
مال جمع کرنے کے لئے وعظ کہنا یہود ونصارٰی کی گمراہیوں سے ہے۔ |
یہ تیسری صور ت بین بین ہے اور دوم سے بہ نسبت اولٰی کے قریب تر ہے جس طرح حج کو جائے اور تجارت کا کچھ مال بھی ساتھ لے جائے جسے" لَیۡسَ عَلَیۡکُمْ جُنَاحٌ اَنۡ تَبْتَغُوۡا فَضْلًا مِّنۡ رَّبِّکُمْؕ "[3] (تم پر کچھ گناہ نہیں کہ تم اپنے پروردگار کا فضل(یعنی رزق حلال)تلاش کرو۔ت)فرمایا۔ لہذا فتوٰی اس کے جواز پر ہے۔
|
افتی بہ الفقیہ ابواللیث رحمہ اﷲ تعالٰی کما فی الخانیۃ والہندیۃ وغیرھما والذی ذکرتہ توفیق بین القولین وباﷲ التوفیق واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
حضرت فقیہ ابواللیث سمر قندی رحمہ الله تعالٰی نے اس پر فتوٰی دیا ہے جیسا کہ فتاوٰی قاضی خاں اور فتاوٰی عالمگیری وغیرہ میں مذکور ہے اور جو کچھ میں نے بیان کیا ہے یہ دو۲ قولوں کے درمیان موافقت پیدا کرنا ہے اور الله تعالٰی ہی سے توفیق ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع