30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ماتمنیت ای زینت فاطلاق القول بنسبۃ الغناء المتنازع فیہ واستماعہ الی ائمۃ الھدٰی تجاسرولا یفھم الجاہل منہ ھذا الغناء الذی یتعا طاہ المغنون المخنثون ونحوھم وقال الشیخ الامام ابراھیم المروزی فی تعلیقہ وعن عمرو عبدالرحمٰن بن عوف وابی عبیدۃ بن الجراح وابی مسعود الانصاری انھم کانوا یترنمون بالاشعار فی الاسفار وکذٰلك عن اسامۃ بن زیدو عبداﷲ بن ارقم وعبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہم والترنم کذٰلك لیس فی محل النزاع اذھو من انواع القسم الاول من القسمین السابقین وقد مر انہ لاخلاف وبہ یعلم ان الظاھر الذی یتعین القطع بہ ان غالب ماحکی عن الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم وعمن بعدھم من الائمۃ انما مومن ھذا القسم الذی لاخلاف فیہ [1] وتمامہ فیہ وفیما ذکرنا کفایۃ،واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔ |
بصحت ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو کچھ میں گیت گاتاہوں تو اسے میں بنا سنوار لیتاہ ہوں لہذا غنا متنازع فیہ اور اس کے سننے کی اجازت کی نسبت ہدایت یافتہ اماموں کی طرف کرنا بہت بڑی جرأت ہے اور جاہل آدمی اس سے یہ غنا نہیں سمجھتا جو گانے والے ہیجڑے وغیرہ اختیار کرتے ہیں شیخ امام ابراہیم مروزی نے اپنی تعلیق میں فرمایا حضرت عمر فاروق حضرت عبدالرحمن ابن عوف،حضرت ابوعبیدہ بن الجراح اور حضرت ابومسعود انصاری رضی الله تعالٰی عنہم یہ سب اپنے سفروں کے دوران خوش الحانی سے اشعار پرھا کرتے تھے اسی طرح حضرت اسامہ بن زید، حضرت عبدالله بن ارقم اور حضرت عبدالله ابن زبیر رضی الله تعالٰی عنہم سے روایت ہے پس اس طرح کا ترنم محل نزاع نہیں کیونکہ وہ سابقہ دو قسموں سے پہلی قسم میں داخل ہے۔اور پہلے یہ بیان کیا جاچکا ہےکہ اس کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں،اور اس سے یہ معلوم ہوا کہ ظاہر بات جس کا قطعی ہونا متعین ہو یہ ہے کہ جس کی حکایت صحابہ کرام اور ان کے بعد ائمہ حضرات کی طرف کی گئی غالبا ا سے یہی قسم مراد ہے جس کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں،پوری بحث اس میں موموجود ہے اور ہم نے جو کچھ بیان کیا وہ کافی ہے اور الله تعالٰی پاك برتر اور سب سے بڑا عالم ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع