30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یقلن فی عرس لھن ؎ اتینا کم اتینا کم فحیانا وحیاکم و کالاشعار المزھدۃ فی الدنیا الراغبۃ فی الاخرۃ فھی من انفع الواعظ فالحاصل علیھا اعظم الاجر ویؤید مانقلہ من نفی الخلاف فی ھذا القسم ان ابن عبدالبر وغیرہ قالوا لاخلاف فی اباحۃ الحداء واستماعہ وھو مایقال خلف نحو الابل من الشعر سوی الرجز وغیرہ لینشطھا علی السیر ومن اوھم کلامہ نقل الخلاف فیہ فھو شاذ اومؤول علی حالۃ یخشی منھا شیئ خیر لائق القسم الثانی ماینتحلہ المغنون العارفون یصنعۃ الغناء المختارون المدن من غزل اشعر مع تلحینہ بالتلحینات الانیقۃ وتقطیعہ لھا علی النغمات الرقیقۃ |
اور صحابہ کرام نے اشعار پڑھے اور نہ صرف ان دو موقعوں پر بلکہ ان کے علاوہ دیگر مواقع پر بھی آپ نے اور آپ کے صحابہ نے رجزیہ اشعار پڑھے ہیں اور حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے انصار کی خواتین کو یہ حکم فرمایا تھا کہ اپنی شادیوں میں عمدہ اشعار پڑھا کریں،"ہم تمھارے پاس آئے ہم تمھارے پاس آئے الله تعالٰی ہمیں بھی زندہ رکھے اور تمھیں بھی زندہ رکھے"اسی طرح ان شعار کا استعمال بھی جائز ہے جو دنیا سے رغبت ہٹا کر آخرت کی رغبت دلانے والے ہوں،اسی قسم کے اچھے اشعار پڑھنابہترین وعظ ہے اور باعث اجر وثواب ہے اور اس کی تائید اس قول سے ہوتی ہے جو امام موصوف نے اس قسم کی نفی کی خلاف کیا کہ علامہ ابن عبدالبر وغیرہ نے کہا کہ حدی خوانی اور اس کے سننے کے مباح ہونے میں کوئی اختلاف نہیں یہ وہ اشعار گوئی اور حدی خوانی ہوتی تھی جو اونٹوں کو ہانکتے وقت ان کے پیچھے پیچھے کی جاتی تھی بجز رجز وغیرہ کے،اورمقصد یہ ہوتا تھا کہ اونٹوں کو چلنے میں خوش اور چست رکھا جائے اور جو اس سلسلے میں وہم اور اختلاف نقل ہوا ہے وہ شاذ ہے یا اس کی بھی تاویل کردی گئی کہ یہ اس حالت پر محمول ہے جس میں نامناسب بات کا اندیشہ کیا گیا ہو، دوسری قسم(جس کی نسبت گانے والے کی طرف کریں)جو گانیوالوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع