30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وسلم دخل مکۃ فی عمرۃ القضیۃ(ابن رواحۃ یمشی بین یدیہ ویقول ؎ خلو بنی الکفار عن سبیلہ الیوم نضربکم علی تنزیلہ ضربا یزیل الھام عن مقیلہ ویذھل الخلیل عن خلیلہ فقال عمر یا ابن رواحۃ بین یدی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وفی حرم اﷲ تقول الشعر فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خل عنہ یا عمر فلھی فیھم اسرع من نضح النبل،وفی روایۃ انہ لما النبل وفی روایہ انہ لما انکر عمر علیہ قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا عمرانی اسمع فاسکت یا عمر(وعامر بن اکوع)کان یحدو بین یدیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم(واستشھد یوم خیبر و انجشہ العبد الاسود) کان حسن الحداء وفی الصحیح عن انس کان حسن الصوت(قال انس)فی الصحیحین(کان براء بن مالک)اخو انس |
کہا جاتاہے جامع ترمذی میں حضرت انس سے روایت ہے کہ جب حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عمرۃ القضاء کی ادائیگی کے لئے مکۃ المکرمہ میں داخل ہوئے تو حضرت عبدالله بن رواحہ آپ سے آگے آگے چل رہے تھے اور یہ فرماتے جاتے تھے کہ اے کفار کی اولاد! ان کا راستہ کھلا چھوڑ دو آج ہم تمھیں ایسی مارمارینگے کہ کھوپڑیاں تن سے جدا ہوجائیں گی اور دوست اپنے دوست کو بھول جائیگا،اس پر حضرت عمر فاروق رضی الله تعالٰی عنہ نے فرمایا:کیا تو رسول الله صل الله تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے ان کے روبرو الله کے حرم میں اشعار پڑھتا ہے، حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمر! اسے چھوڑ دو کہ یہ رجزیہ اشعار دشمن پر تیر اندازی سے بھی زیادہ موثر ہیں اور دوسری روایت میں ہے کہ جب عمر فاروق اعظم رضی الله تعالٰی عنہ نے انکار فرمایا تو حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اے عمرو! میں تو سن رہا ہوں لہذا تم خاموش رہو،اور حدیث عامر بن اکوع رضی الله تعالٰی عنہ حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے حدی خوانی کیا کرتے تھے اور یہ خیبر میں شہید ہوئے اور حضرت انجشہ حبشی غلام تھے یہ بہتر ین حدی خواں تھے صحیح میں ہے حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت انجشہ کی آواز خوبصورت تھی صحیح میں حضرت انس رضی الله تعالٰی عنہ کی روایت ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع