30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اشعار کا سادہ خوش الحانی سے پڑھنا بھی زمانہ صحابہ وتابعین وائمہ دین مجوزہ مقبول ہے بلکہ خود بعض صحابہ کرام رضی الله تعالٰی عنہم اجمعین سے ماثور ومنقول بلکہ خود حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے ہونا حضور سنتے اور انکار نہ فرماتے بارگاہ رسالت میں حدی خوانی پر صحابہ مقرر تھے۔کہ اپنی خوش الحانیوں دلکش صدی خوانیوں سے اونٹوں کو راہ روی میں وارفتہ بناتے،انس بن مالك رضی الله تعالٰی عنہ کے برادر اکرم سیدنا براء بن مالك رضی الله تعالٰی عنہ خود موکب اقدس کے حدی خواں تھے عجب آواز دلکش رکھتے اور بہت خوبی سے اشعار حدی پڑھتے یہ اجلہ صحابہ کرام سے ہیں بدر کے سوا سب مشاہد میں حاضر ہوئے حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے ان کی نسبت فرمایا:بہت الجھے بال میلے کپڑے والے جن کی کوئی پروا نہ کرے ایسے ہیں کہ الله عزوجل پر کسی بات میں قسم کھالیں تو خدا ان کی قسم سچی ہی کرے انھیں میں سے برادر بن مالك ہے [1]"
ایك روز انس بن مالك رضی الله تعالٰی عنہ ان کے پاس گئے اس وقت اشعار اپنے الحال سے پڑھ رہے تھے انھوں نے کہا کہ آپ کو الله عزوجل نے وہ چیز عطا فرمائی جو اس سے بہتر یعنی قرآن عظیم فرمایاکیا یہ ڈرتے ہو کہ بچھونے پر مروں گا خدا کی قسم الله مجھے شہادت سے محروم نہ کرے گا سو کا فر تو میں نے نہا قتل کئے ہیں اور جو شرکت میں مارے ہیں وہ علاوہ [2]جب خلافت امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی الله تعالٰی عنہ میں قلہ تستر پر جہاد ہوا ہے اور مسلمانوں کو سخت دقت پیش آئی حدیث مذکور سنے ہوئے تھے ان سے کہا اپنے رب قسم کھائے انھوں قسم کھائی کہ اے رب میرے! کافروں پر ہمیں قابوں دے کہ ہم ان کی مشکیں کس لیں اور مجھے اپنے نبی سے ملا،یہ کہہ کر حملہ آور ہوئے اور ان کے ساتھ مسلمانوں نے حملہ کیا ایرانیوں کا سپہ سالار ہر مزان مارا گیا کافر بھاگ گئے اور براء شہید ہوئے رضی الله تعالٰی عنہ [3]،اور بیبیوں کے ہودجوں پر انجشہ حبشی رضی الله تعالٰی عنہ حدی خوانی کرتے ان کی خوش آوازی مشہور تھی حجۃ الوداع شریف میں حدی پڑھی ہے اور اونٹ گرمائے بہت تیز چل نکلے،سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:اے انجشہ! آہستہ،شیشیوں کے ساتھ[4] نرمی کر ،شیشیوں سے مراد عورتیں ہیں،یعنی اونٹ اتنے تیز نہ کروکہ تکلیف ہوگی یا عورتوں کا مجمع ہے خوش الحانی حد سے نہ گزارو،ان کے سوا سیدنا عبدالله بن رواحہ سیدنا عامر بن الاکوع رضی الله تعالٰی عنہما بھی حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے آگے حدی خوانی کرتے چلتے،روز عمرۃ القضاء جب لشکر ٖظفر پیکر محبوب اکبر صلی الله
[1] جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب البراء بن مالک امین کمپنی دہلی ۲ /۶۲۶
[2] الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ ترجمہ البراء بن مالک دارصادر بیروت ۱ /۱۴۳
[3] الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ ترجمہ البراء بن مالک دارصادر بیروت ۱ /۱۴۳،شرح الزرقانی علی المواھب اللدینہ المقصد الثانی الفصل السابع دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۳۷۷
[4] شرح الزرقانی علی المواھب اللدینہ المقصد الثانی الفصل السابع دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۳۷۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع