30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وکابۃ فاذا قرأتموہ فابکوافان لم تبکوا فتباکوا وتغنوا بہ فمن لم یتغن بہ فلیس منا رواہ ابن ماجۃ [1] و محمد بن نصرفی الصلٰوۃ والبیھقی فی شعب الایمان عن سعد بن مالك رضی اﷲتعالٰی عنہ۔ |
تو جب اسے پڑھو گریہ کرو اگر رونا نہ آئے بتکلیف روؤ اور قرآن کو خوش الحانی سے پرھو جو اسے الحان خوش سے نہ پڑھے وہ ہمارے طریقے پر نہیں(ابن ماجہ اور محمد بن نصر نے کتاب الصلٰوۃ میں اور امام بہیقی نے شعب الایمان میں حضرت سعد ابن مالك کے حوالے سے اس کو راویت کیا ہے۔ت) |
پھر اس کے ساتھ اگر اس کی قراءت بلا قصد اوزان موسیقی سے کسی وزن کے موافق نکلے تو اصلاح حرج والزام نہیں حتی کہ نماز میں بھی ایسی تلاوت جائز وحسن ومستحسن ہے۔علامہ خیر الملۃ والدین رملی ستاذ صاحب درمختار کے فتاوٰی خیریہ لنفع البریۃ میں ہے:
|
سئل فی امام یقرأ فی الجھریات بصوت حسن علی القواعد المقررۃ عند اھل العلم بحیث لا یخل بحکم من احکام القراء ۃ لکن یصادف ان یخرج قراءتہ علی طبق نغم من الانغام المقررۃ فی الموسیقی من غیر لحن وتطریب ھل یجوز ذٰلك واذا قلتم بالجواز ھل یکرہ ام لااجاب نعم یجوز ذٰلك ولا یکرہ اذتحسین الصوت بالقرأۃ مطلوب کما صرح بہ المحقق ابن الھمام فی فتح القدیر وقال فی البحر نقلا عن الخلاصۃ وتحسین الصوت لا باس بہ من غیر تغن |
اس امام کے متعلق پوچھا گیا جو جہری نمازوں میں اچھی آواز کے ساتھ اہل علم کے ہاں ثابت شد قواعد کے مطابق قرآن مجید کی تلاوت کرتاہے اور ایسا طریقہ اپناتا ہے کہ قرأت کے کسی حکم میں خلل پیدا نہیں ہوتا لیکن اس کے باجود وہ اس خوف کے پیش نظر کتراتا اور اعرض کرتاہے کہ کہیں اس کی قرأت موسییقی کے نغموں یا گانے کی سروں سے مشابہ نہ ہو کیا اس کا ایسا پڑھنا جائز ہے ؟ بصورت جواز کیا یہ مکروہ بھی نہیں ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں یہ جائز ہے اور مکروہ بھی نہیں کیونکہ خوبصورت آواز میں قرآن مجید پڑھنا شرعًا مطلوب ہے جیسا کہ محقق ابن الہمام نے فتح القدیر میں تصریح فرمائی۔ بحرالرائق میں خلاصہ سے نقل کیا گیا کہ تحسین صوت میں کوئی حرج نہیں جبکہ بغیر گانے کے ہو۔اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع