30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ ہے والله تعالٰی اعلم کہ اگر کوئی شخص اپنے لئے تلاوت قرآن عظیم بآواز کررہا ہے اور باقی لوگ اس کے سننے کو جمع ہوئے بلکہ اپنے اغراض متفرقہ میں ہیں تو ایك شخص تالی کے پاس بیٹھابغور سن رہاہے ادائے حق ہوگیا باقیوں پر کوئی الزام نہیں،اوراگر وہ سب اسی غرض واحد کے لئے ایك مجلس میں مجتمع ہیں تو سب پر سننے کا لزوم چاہئے جس طرح نماز میں جماعت مقتدیان کہ ہر شخص پر استماع وانصات جداگانہ فرض ہے یا جس طرح جلسہ خطبہ کہ ان میں ایك شخص مذکر اور باقیوں کو یہی حیثیت واحدہ تذکیر جامع ہے تو بالاتفاق ان سب پر سننا فرض ہے نہ یہ کہ استماع بعض کافی ہو جب تذکیر میں کلام بشیر کا سننا سب حاضرین پر فرض عین ہوا تو کلام الٰہی کاا ستماع بدرجہ اولٰی۔
|
ولا یفرق بافتراض الخطبۃ و رودالامر بقولہ تعالٰی " فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللہِ"[1] بخلاف التلاوۃ فان المعتمد وجوب الاستماع لکل خطبۃ ولو خطبۃ ختم القراٰن ولو خطبۃ النکاح کما فی ردالمحتار وغیرہ من الاسفار وان حملنا القولین علی ماذکرنا من الصورتین یحصل التوفیق۔ |
خطبہ کی سماعت فرض ہونے میں الله تعالٰی کے اپنے اس ارشاد" فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللہِ " (الله تعالٰی کے ذکر(خطبہ)کی طرف جلدی سے جاؤ)میں امروارد ہونے سے فرق نہ کیا جائے گا بخلاف تلاوت کے کیونکہ سماع خطبہ میں ہر خطبہ شامل ہے اور سماعت واجب ہے خواہ ختم قرآن کا خطبہ ہو یا خطبہ نکاح ہو جیسا کہ فتاوٰی شامی وغیرہ بڑی کتابوں میں مرقوم ہے۔اگر ہم دوقولوں کو ان دو صورتوں پر حمل کریں کہ جنھیں ہم نے(پہلے بیان کردیا تو دونوں اقوال میں موافقت پیدا ہوجائے گی۔(ت) |
بہر حال اس قدر میں شك نہیں کہ قرآن عظیم کا ادب وحفظ حرمت لازم اور اس میں لغو ولغط حرام و ناجائز پس صورت اولٰی میں جہاں مقصود تلاوت وختم قراٰن ہے۔نہ حاضرین کو سنانا اگرسب آہستہ پڑھیں کہ ایك کی آواز دوسرے کو نہ جائے تو عین ادب واحسن واجب ہے۔اس کی خوبی میں کیا کلام،اور اگر چند آدمی بآواز پڑھ رہے ہیں یوں ہی قاری کے پاس ایك یا چند مسلمان بغور سن رہے ہیں اور ان میں باہم اتنا فاصلہ ہے کہ ایك کی آواز سے دوسرے کا دھیان نہیں بٹتا تو قول اوسع پر اس میں بھی حرج نہیں اوراگر کوئی سننے والانہیں،یا بعض کی تلاوت بعض اشخاص سن رہے ہیں بعض کی کوئی نہیں سنتا یا قریب آوازیں مختلف ومختلف ہیں کہ جدا جدا سننا میسرہی نہ رہا تو یہ صورتیں بالاتفاق ناجائز و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع