30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الکتب توجروا بالتحقیق(بحوالہ کتب دلیل کے ساتھ بیان کرو تاکہ یقینی طو ر پر اجر وثواب کے مستحق قرار پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)قرآن مجید پڑھا جائے اسے کان لگا کر غور سے سننا اور خاموش رہنا فرض ہے:
|
قال اﷲ تعالٰی " وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾"[1]۔ |
الله تعالٰی نے ارشاد فرمایا:جب قرآن مجید پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر(بغور)سنو اور خاموشی اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔(ت) |
علماء کو اختلاف ہے کہ یہ استماع وخاموش فرض عین ہے کہ جلسہ میں جس قدر حاضر ہوں سب پر لازم ہے کہ ان میں جو کوئی اس کے خلاف کچھ بات کرے مرکتب حرم وگنہگار ہوگا یا فرض کفایہ ہے کہ اگر ایك شخص بغور متوجہ ہو کر خاموش بیٹھا سن رہا ہے تو باقی پر سے فرضیت ساقط،ثانی اوسع اور اول احوط ہے۔
|
فی ردالمحتار فی شرح المنیۃ والاصل ان الاستماع للقراٰن فرض کفایۃ لانہ لاقامۃ حقہ بان یکون ملتفتا الیہ غیر مضیع وذٰلك یحصل بانصات البعض الخ نقل الحموی عن استاذہ قاضی القضاۃ یحیٰی شھیرۃ بمنقاری زادہ ان لہ رسالۃ حقق فیھا ان استماع القراٰن فرض عین [2]۔ |
دوسرے قول میں زیادہ وسعت اور گنجائش ہے جبکہ پہلے قول میں زیادہ احتیاط ہے ردالمحتار میں شرح منیہ کے حوالے سے فرمایا اصل یہ ہے کہ قرآن مجید سننا(شرعا)فرض کفایہ تاکہ اس کا حق قائم ہوجائے اس کی صورت یہ ہے کہ اس کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو اس کو ضائع نہ کرے اور بعض کے خاموش رہنے سے بھی یہ مقصد حاصل ہوجاتاہے الخ۔علامہ حموی سے بھی یہ مقصد حاصل ہوجاتاہے الخ۔علامہ حموی نے اپنے استاذ قاضی القضاۃ یحیٰی سے(جو منقاری زادہ کے نام سے مشہور تھے)نقل کیا ہے کہ انھوں نے اپنے رسالہ میں تحقیق فرمائی کہ قرآن مجید کا سننا فرض عین ہے۔(ت) |
اقول:وبالله التوفیق(میں الله تعالٰی کے توفیق دینے سے کہتاہوں۔ت)ظاہر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع