30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الدرالمختار کرہ تحریما استقبال قبلۃ و استدبارھا الاجل بول اوغائط فلو للاستنجاء لم یکرہ [1]فی ردالمحتار تحریما لما فی المنیۃ ان ترکہ ادب ولما مر فی الغسل ان من اٰدابہ ان لایستقبل القبلۃ لانہ یکون غالبا مع کشف العورۃ حتی لو کانت مستورۃ لاباس بہ ولقولھم یکرہ مدالرجلین الی القبلۃ فی النوم وغیرہ عمدا وکذا فی حال مواقعۃ اھلہ اھ [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
درمختار کےآداب استنجاء میں ہےکہ پیشاب اور پاخانہ کی ضرورت کے وقت قبلہ رخ ہوکر یا اس کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھنا مکروہ تحریمی ہے اور اگر استنجاء کے لئے بیٹھنا پڑے تو مکروہ نہیں۔ردالمحتار میں ہےلم یکرہ یعنی مکروہ تحریمی نہیں اس لئےکہ منیۃ المصلی میں ہے استنجا کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرنا مستحب ہے،بحث غسل میں گزرا ہےکہ غسل کرنے میں ادب اور مستحب یہ ہے کہ قبلہ کی طرف منہ نہ کرے،کیونکہ وہ غالبا کشف عورت کے ساتھ ہوگا(یعنی غسل کرتے وقت اسی کی شرمگاہ ننگی ہوگی حتی کہ اگر شرمگاہ پوشیدہ اور ڈھکی ہوئی ہو تو کچھ حرج نہیں)اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے نیند وغیرہ میں دانستہ طور پر قبلہ کی طرف پاؤں پھیلانا مکروہ ہے اسی طرح اپنی بیوی سے ہمبستری کے وقت (پاؤں پھیلانا)۔(ت)والله تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۱۱۱: ۶ ربیع الثانی ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں اکثر مساجد میں رنڈیاں چراغ جلاتی ہیں آیا انکا چراغ مسجد میں جلانا جائز ہے یاناجائز؟
الجواب:
اس قوم کی عادت سنی گئی کہ ایسے مصارف خیر میں جو کچھ صرف کریں اپنے مال خبیث سے نہیں ہوتا بلکہ قرض لے کر صرف کیا جاتا اور اس کا معاوضہ اپنے مال سے دیا جاتاہے اوراگر ایسا ہے جب تو اس کے جواز میں اصلا شبہ نہیں اور اس امر میں کہ یہ صرف اپنے مال سے نہیں قرض سے ہے اس کا قول مقبول ومسموع ہے کما نص علیہ فی الہندیۃ من الکراھیۃ وغیرھا وبیناہ فی فتاونا جیسا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع