30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
معناہ من وافق خطہ فھو مباح لہ ولکن لاطریق لنا الی العلم الیقینی بالموافقۃ فلا یباح والمقصود انہ حرام لانہ لایباح الابیقین بالموافقۃ ولیس لنا یقین بھا [1]۔ |
حدیث پاك کا مفہو م اور مراد یہ ہے کہ جس آدمی کی لکیریں بعض انبیاء کرام کی لکیروں کے موافق ہوجائیں تو اس کے لئے(علم رمل)مباح ہے لیکن حصول موافقت کے لئے ہمارے پاس یقینی علم تك رسائی کاکوئی راستہ نہیں لیکن علم مذکور(ہمارے لئے)مباح نہیں اور مقصد یہ ہے کہ وہ حرام ہے کیونکہ یقینی موافقت کے بغیر وہ مباح نہیں ہوسکتا اور یقنی موافقت کا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں۔(ت) |
یعنی مقصود حدیث تحریم رمل ہےکہ اباحت بشرط موافقت ہے۔اور وہ نامعلوم تو اباحت معدوم۔علامہ علی قاری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
|
حاصلہ ان فی ھذا لزمان حرام لان الموافقۃ معدومۃ او موھومۃ [2]۔ |
یعنی حاصل حدیث یہ ہے کہ رمل اس شریعت میں حرام ہے کہ موافقت معدوم ہے یا موہوم۔ |
اسی میں امام ابن حجر سے انھوں نے اکثر علماء سے نقل فرمایا:
|
لایستدل بھذا الحدیث علی اباحتہ لانہ علق الاذن فیہ علیہ موافقۃ خط ذٰلك النبی صلی موافقۃ غیر معلومۃ فاتضح تحریمہ [3]۔ |
یعنی اس حدیث سے رمل کی اباحت پر استدلال نہ کیا جائے کہ اس میں تو اجازت ان نبی کے خط سے موافقت پر موقوف فرمائی ہے اور یہ موافقت معلوم نہیں تو اس کا حرام ہونا روشن ہوگیا۔ |
بعینہٖ یہی حالت اس قول علماء کی ہے کہ جب اجازت کتابت علم شفا سے مشروط فرماتے ہیں اور وہ معدوم یا موہوم ہو تو اباحت معدوم۔
|
ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق ثم بعد کتا بتی لھذا المحل |
یونہی تحقیق کرنی چاہئے اور الله تعالٰی ہی توفیق کا مالك ہے۔ پھر میں نے یہ جگہ لکھنے کے بعد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع