30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اگر ظن کو بھی شامل کیجئے تو یہ لکھنا غایت درجہ از قبیل رقیہ ہوگا نہ از قبیل معالجات ورضحہ طبیہ اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ایسے معالجات سے شفاء معلوم ہونا درکنار مظنون بھی نہیں صرف موہوم ہے۔اسی عالمگیری میں فصول عمادی سے ہے:
|
الاسباب المزیلۃ للضرر تنقسم الی مقطوع بہ کالماء للعطش والخبز للجوع والی مظنون کا لفصد والحجامۃ وشرب المسھل وسائر ابواب الطب یعنی معالجۃ البرودۃ بالحرارۃ ومعالجۃ الحرارۃ بالبرودۃ وھی الاسباب الظاھرۃ فی الطب والی موھوم کالکی والرقیۃ [1]۔ |
جن اسباب سے ضرور دور ہوتاہے وہ دو قسم کے ہیں(۱)یقینی جیسے پانی پیاس دورکرنے کے لئے اور کھانا بھوك کو رفع کرنے کے لئے(۲)ظنی،جیسے خون نکلوانا،پچھنے لگوانا،جلاب آور دوا پینا اور دیگر ابواب طب یعنی سردی کا گرمی سے علاج کرنا،اور گرمی کا سردی سے،اور علم طب میں یہ ظاہری اسباب ہیں اور وہمی اسباب جیسے داغ لگانااور جھاڑ پھونك یعنی دم کرنا۔(ت) |
تو دیکھو علمائے تصریح فرمائی کہ یہ لکھنا جائز جب ہو کہ اس سے شفاء معلوم ہو اور ساتھ ہی یہ بھی تصریح فرمائی کہ اس سے شفا ء معلوم نہیں تو کیا حاصل یہ نکلا کہ یہ لکھناجائز ہے یا یہ کہ ہر گز جائز نہیں صحیح حدیث میں ہے حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے دربارہ رمل سوال ہوا ارشاد فرمایا:
|
کان نبی من الانبیاء یخط فمن وافق خطہ فذاك رواہ مسلم [2] فی صحیحہ واحمد ابودؤد والنسائی عن معاویۃ بن الحکم رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
بعض انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کچھ خط کھینچا کرتے تھے تو جس کی لکیریں ان کے خطوں سے موافق ہوں وہ ٹھیك ہے(امام مسلم نے اپنی صحیح مسلم میں امام محمد،ابوداؤد اور نسائی نے معاویہ بن حکم رضی الله تعالٰی عنہ سے اس کو روایت کیا ہے۔ت) |
اب اس حدیث سے ٹھہرادینا کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے رمل پھینکنے کی اجازت دی ہے حالانکہ حدیث صراحۃ مفید ممانعت ہے کہ جب حضورا قدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اس کا جواز مواقف خط انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام سے مشروط فرمایا اور وہ معلوم نہیں تو جواز بھی نہیں۔امام نووی رحمہ الله تعالٰی نے کتاب الصلٰوۃ باب تحریم الکلام میں زیر حدیث مذکور فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع