30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور ثبوت میں یہ آیت پیش کرے کہ:
|
" فَمَنِ اضْطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیۡہِؕ"[1] |
پھر کوئی بیقرار ہوگیا بشرطیکہ بغاوت اور زیادتی کرنیوالا نہ ہو تو اس پر(مردار کھالینے کا)کوئی گناہ نہیں۔(ت) |
یا کوئی مردود نیچری یُوں جَھك کمارے کہ کفر کے بول بولنا الله تعالٰی نے جائز فرمادیا ہے اور سند میں یہ آیت سناد ے کہ:
|
" اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمٰنِ"[2] |
مگر اس کو کلمہ کفر کہنے کی اجازت ہے کہ جس کو مجبور کیا جائے جبکہ اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو۔(ت) |
ان مفتری کذابوں سے یہی کہا جائے گا کہ قرآن عظیم نے تو سوئر کھانا اور کلمہ کفر بکنا قطعی حرام کئے ہیں یہ تیرا محض افتراء و بہتان ہے،ہاں دم نکلتا ہو اور کچھ اور میسر نہیں تو جان بچانے کو حرام چیز کھانے کی اجازت دینی یا کوئی ظالم بغیر کفر کے ظاہر کئے مارے ڈالتا ہو یا آنکھیں پھوڑتا یا ہاتھ پاؤں کاٹتا ہو تو دل میں خاص ایمان کے ساتھ حفظ جسم وجان کے لئے کچھ ظاہر کرنے کی رخصت فرمائی یہ قطعا حق وعین رحمت ومصلحت ہے اور اسے تیرا اس طور پر تعبیر کرنا یقینا بہتان وصریح شرارت وخباثت ہے بعینہٖ یہی جواب ان غیر مقلد صاحبوں کے اعتراض کا سمجھ لیجئے۔
خامسًا: فقیر کہتا ہے غفر الله تعالٰی لہ اگر الله عزوجل نظر غائر وقت شناس نصیب فرمائے تو عندالتحقیق ا س کلام علماء کا مرجع ومآل صاف ممانعت ہے نہ تجویز واجازت کہ وہ شرط فرماتے ہیں کہ جب اس سے شفاء ہوجانا معلوم ہو حالانکہ اس علم کا کوئی ذریعہ نہیں،اگرعلم بمعنی یقین لیجئے جب تو ظاہر کہ یقین تو ظاہر وواضح ومجرب ومعقول الا ثرداؤں میں بھی نہیں نہایت کارظن ہے۔
اسی ردالمحتار میں ہے:
|
قدعلمت ان قول الاطباء ولا یحصل بہ العلم [3]۔ |
بیشك تو نے جان لیا کہ طبیبوں کے قول سے علم حاصل نہیں ہوتا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع