30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوم: اس تدبیر سے اسے شفا ہوجانا بھی معلوم ہو جیسا کہ عبارت قاضی خاں لوکان فیہ شفاء [1](اگر اس میں شفا ء معلوم ہو۔ ت)سے ظاہر، اور اسی ردالمحتار میں بعد عبارت مذکورہ ہے:وقد علم انہ لو کتب ینقطع [2]بتحقیق معلوم ہو کہ لکھا جائے تو خون منقطع ہوجائے گا
سوم: اس کے سوا کوئی اور تدبیر شفا نہ ہو جیساکہ عبارت قاضی خاں حال الاضطرار سے ظاہر، اور اس ردالمحتار میں ہے:
|
فی النھایۃ عن الذخیرۃ یجوز ان علم فیہ شفاء ولم یعلم دواء اٰخر [3]۔ |
(نہایہ میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے)جب جائز ہے کہ اس سے شفا ہوجانا معلوم ہو اور دوسری کوئی دوا نہ معلوم ہو۔ |
اسی میں ہے:
|
ھذا لمصرح فی عبارۃ النھایۃ کما مرولیس فی عبارۃ الحاوی الا انہ یفاد من قولہ کما رخص الخ لان حل الخمر والمیتۃ حیث لم یوجد مایقدم مقامھما [4]۔ |
عبارت نہایہ میں یہ تصریح کی گئی جیسا کہ بیان گزر چکا،لیکن عبارت حاوی قدسی میں یہ تصریح موجود نہیں مگر یہ کہ اس کے قول"کما رخص"سے افادہ کیا جائےا لخ اس لئے کہ شراب اور مردار(وہاں)حلال ہیں جہاں کوئی نعم البدل نہ پایا جائے لہذا بصورت دیگر وہ حلال نہیں(ت) |
اہل انصاف غور کریں کہ جو حکم ان تین شرطوں کے ساتھ مشروط ہو جن کے بعد اس میں اصلا استبداد نہیں کہ الضرورات تبیح المحظورات(ضرورتیں ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں۔ت)شرع وعقل وعرف سب کا مجمع علیہ قاعدہ ہے ان تمام شرائط کو اڑا کر مطلقًا یوں کہہ دینا کہ ان کتابوں میں لکھا ہے کہ قرآن شریف کی آیت کا پیشاب سے لکھنا جائز ہے کون سی ایمان وامانت ودین ودیانت کا مقتضا ہے یہ تو ایسا ہوا کہ کوئی کافر نصرانی یہودی بك دے کہ قرآن مجید میں سور کھانا حلال لکھا ہے۔
[1] فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۸۰،دالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۴۰
[2] ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۴۰
[3] ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۴۰
[4] ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۴۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع