30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رحمہ اﷲ تعالٰی معنی قولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام ان اﷲ لم یجعل شفاء کم فیما حرم علیکم انما قال ذٰلك فی الاشیاء التی لایکون فیہ شفاء فاما اذا کان فیہا شفاء فلا بأس بہ قال الاتری ان العطشان یحل لہ شرب الخمر حال الاضطرار [1]۔ |
رحمہ الله تعالٰی نے فرمایا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ارشاد کہ"بے شك الله تعالٰی نے جو کچھ تم پر حرام فرمایا ہے اس میں تمھارے لئے شفا نہیں رکھی"کا مفہوم یہ ہےکہ یہ ان چیزوں سے متعلق ہے جن میں فی الواقع شفاء نہیں لیکن جن میں شفا موجود ہے تو ان کے استعمال میں کیا حرج ہے کیا تم دیکھتے نہیں کہ پیا سے آدمی کے لئے اضطراری حالت میں شراب کا پینا بھی حلال ہے۔(ت) |
اس عبارت سے واضح کہ فقیہ ممدوح سے اس حالت کا سوال ہوا تھا کہ کسی کے دماغ سے ناك کی راہ خون جاری ہے اور کس طرح نہیں تھمتا اس حالت میں اس کی جان بچانے کو اگر خون یا بول سے لکھیں تو اجازت ہے یانہیں؟ فقیہ موصوف نے فرمایا اگر اس سے شفا ہو جانا معلوم ہو تو مضائقہ نہیں اور اس کی نظیر یہ بتائی گئی کہ پیاس سے جان جاتی ہو اور سوا شراب کے کوئی چیز موجود نہیں یا بھوك سے دم نکلتا ہو اور سوا مردار کے کچھ پاس نہیں تو اس وقت بمقدار جان بچانے کے شراب ومردار کے استعمال کی شرع مطہر نے رخصت دی ہے تو فقیہ موصوف کا یہ حکم حقیقۃ تین شرطوں سے مشروط تھا:
اوّل: یہ کہ جان جانے کا خوف ہو،جیساکہ عبارت قاضی خان فلا یرقادمہ(اس کا خون بند نہ ہو۔ت)سے ظاہر ہے اور اسی رد المحتار میں کہ اس کا نام بھی معترض نے گن دیا۔ عبارت یوں ہے:
|
نص مافی الحاوی القدسی اذا سال الدم من انف انسان ولا ینقطع حتی یخشی علیہ الموت [2]۔ |
(حاوی قدسی میں تصریح فرمائی)یعنی خون ناك سے جاری ہے اور نہیں تھمتا یہاں تك کہ اس کے مرجانے کا اندیشہ ہو۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع