30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول: وبالله التوفیق(میں الله تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں،ت)معترض نے اس عبارت میں متعدد طور پر دھوکے دینے سے کام لیا ہے۔
اولًا: ایہام کیا کہ ہدایہ وغیرہ سب کتب مذکورہ میں یہ مسئلہ لکھا ہے۔حالانکہ نہ ہدایہ میں اس کا پتا نہ شرع وقایہ میں نشان،نہ درمختار میں وجود،نہ عالمگیری میں ذکر بول موجود،یہ سب معترض صاحب مغالطہ دہی ہے فتاوی برہنہ فقیر کے پاس نہیں۔نہ وہ کوئی معتبر کتابوں میں معدود۔
ثانیًا: سراجیہ میں اس کے بعد صراحۃ لکھ دیا لکن لم ینقل [1]مگر یہ منقول نہ ہوا،اسی طرح ردالمحتار [2] میں نقل فرمایا۔تو ان کی طرف حکم جواز کی نسبت کردینی محض افترا ہے حکم کسی شرط پر مشروط کرکے وجود شرط حکم کو تسلیم نہ کرنا ہے نہ کہ حکم دینا کما لایخفی علی جاھل فضلا عن فاضل(جیسا کہ کسی ان پڑھ سے بھی پوشیدہ نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل سے پوشیدہ ہو۔ت)
ثالثًا: فتاوٰی قاضی خاں میں صاف بتادیا کہ یہ مسئلہ نہ امام اعظم رضی الله تعالٰی عنہ کا ارشاد ہے نہ ان کے اصحاب کا،نہ شاگردان کا نہ شاگردان شاگرد کے کسی شاگرد کا،بلکہ شیخ ابوبکر اسکاف بلخی کا قول ہے کہ چوتھی صدی کے مشائخ سے تھے وہ بھی نہ اس طور پر جس طرح معترض نے بیان کیا جیسا کہ عنقریب آتا ہے تو اس کے باعث یہ ایہام کرنا کہ فقہ امام اعظم کا یہ حکم ہے صحیح فریب دہی ہے۔رابعًا: فتاوٰی قاضی خان کی عبارت یہ ہے:
|
الذی رعف فلا یرقا دمہ فاراد ان یکتب بدمہ علی جبھتہ شیئا من القراٰن،قال ابوبکر الاسکاف رحمہ اﷲ تعالٰی یجوز قیل لوکنت بالبول،قال لوکان فیہ شفاء لابأس بہ قیل لوکتب علی جلد میتۃ قال ان کان فیہ شفاء جاز وعن ابی نصر بن سلام |
جس شخص کی نکسیر آئے کہ خون بند نہ ہو پھر اس نے اپنے خون سے قرآن مجید کا کوئی حصہ اپنی پیشانی پر لکھنے کا ارادہ کیا ہو (تو شرعًا کیا حکم ہے)ابوبکر اسکاف رحمۃ الله تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ جائز ہے۔پھر ان سے پوچھا گیا اگر پیشاب سے لکھے (تو پھر کیا حکم ہے)فرمایا اگر اس میں شفاء معلوم ہو تو کچھ حرج نہیں،پھر کہا گیا کہ اگر مردار کی کھال پر لکھے،توفرمایا اگر اس میں بھی شفاء معلوم ہو تو جائز ہے۔ابوالنصر بن سلام |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع