30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو کیونکر ادب ہوگا کہ کتابیں نیچے رکھی ہوں اور آپ اوپر بیٹھیں کیا ایسے لوگوں کو بے ادبی کی شامت سے خوف نہیں،حروف تہجی خود کلام الله ہیں کہ ہود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل ہوئے۔
|
کما فی ردالمحتار [1]للعلامۃ الشامی عن سیدی عبدالغنی النابلسی عن کتاب الاشارات فی علم القرآء ت للامام القسطلانی رحمہم اﷲ تعالٰی۔ |
جیسا کہ علامہ فتاوی شامی میں سیدی عبدالغنی نابلسی کے حوالے سے"کتاب الاشارات فی علم القراءت"میں امام قسطلانی رحمہم الله تعالٰی سے مروی ہے۔(ت) |
البتہ کتب دینیہ کو بے وضو ہاتھ لگانے کے بارے میں علماء مختلف ہیں بعض علماء مطلقًا جائز فرماتے ہیں اور بعض مطلقًا مکروہ اور بعض تفصیل کرتے ہیں کہ کتب تفسیر میں مکروہ اور غیر جائز بشرطیکہ ان میں جہاں کوئی آیت لکھی ہو خاص اس پر ہاتھ نہ رکھے اس کی ممانعت میں کوئی کلام نہیں اور یہی تفصیل زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔
|
فی ردالمحتار الاظھر والاحوط القول الثالث ای کراھتہ فی التفسیر دون غیرہ [2]وتمامہ فیہ عن السراج عن الایضاح لا یجوز مس موضع القراٰن منھا [3] الخ۔ |
ردالمحتار(فتاوٰی شامی)میں ہے کہ زیادہ ظاہر اور زیادہ احتیاط تیسرے قول میں ہے یعنی کتب تفسیر کو بے وضو ہاتھ نہ لگانا جبکہ دوسری کتابوں کوہاتھ لگانے میں کراہت نہیں الخ اور اس کی پوری بحث ردالمحتار میں سراج بواسطہ ایضاح سے منقول ہے کتابوں میں جہاں قرآن مجید کا کوئی حصہ لکھا ہو وہاں ہاتھ لگانا جائز نہیں الخ(ت) |
اور بسم اﷲ کہ شروع پرلکھتے ہیں غالبا اس سے تبرك وافتتاح تحریر مراد ہوتا ہے۔نہ کتابت آیات قرآنیہ،اور ایسی جگہ تغییر قصد سے تغییر حکم ہوجاتاہے ولہذا جنب کو آیات دعا وثنا نہ نیت قرآن بلکہ بہ نیت ذکر ودعا پڑھنا جائز ہے۔
|
فی الدرالمختار لو قصد الدعاء والثناء |
درمختار میں ہے اگر تسمیہ وغیرہا سے دعا،ثناء |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع