30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ نفس حروف قابل ادب ہیں اگر چہ جدا جدا لکھے ہوں جیسے تختی یا وصلی پر خواہ ان میں کوئی برا نام لکھا ہو جیسے فرعون،ابوجہل وغیرہما،تاہم حرفوں کی تعظیم کی جائے اگر چہ ان کافروں کانام لائق اہانت وتذلیل ہے۔
|
فی الہندیہ اذا کتب اسم فرعون اوکتب ابوجھل علی غرض یکرہ ان یرموا الیہ لان لتلك الحروف حرمۃ کذ ا فی السراجیۃ [1]۔ |
فتاوٰی ہندیہ میں ہے جب فرعون اور ابوجہل وغیرہ کے نام کسی غرض کے لئے لکھے جائیں تو مکروہ ہے کہ انھیں کہیں پھونك دیں اس لئے کہ ان حروف کی عزت وتوقیر ہے جیسا کہ"سراجیہ"میں مذکور ہے۔(ت) |
اور تصریح فرماتے ہیں کہ کتاب پر دوات رکھنا منع ہے مگر جب لکھتے وقت ضرورت ہو۔
|
فی الدرالمختار یکرہ وضع المقلمۃ علی الکتاب الا للکتابۃ [2]ملخصا،فی ردالمحتار قولہ الاللکتابۃ الظاھر ان ذٰلك عند الحاجۃ الی الوضع [3] اھ۔ |
درمختار میں ہے کتاب پر دوات رکھنا مکروہ ہے مگر جبکہ لکھنے کی حاجت ہو تو اس وقت ایسا کرنا جائز ہے۔اھ ملخصا۔ردالمحتار میں مصنف درمختار کے قول"الا للکتابۃ"کے ذیل میں فرمایا ظاہر یہ ہے کہ جب تك رکھنے کی ضرورت ہو اس وقت تك اجازت ہے۔اھ(ت) |
اور تصریح فرماتے ہیں کہ اگر کسی صندوق یاا لماری میں کتابیں رکھی ہوں تو ادب یہ ہے کہ اس کے اوپر کپڑے نہ رکھے جائیں۔
فی العالمگیریۃ:
|
حانوت اوتابوت فیہ کتب فالادب ان لایضع الثیاب فوقہ [4]۔ |
کسی صندوق یا الماری میں کتابیں رکھی ہوں تو ادب کا تقاضا یہ ہے کہ ان پر کپڑے نہ رکھے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع