30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسجد میں ان کا لینا اور استعمال کرنا اور ان پر نماز پڑھنا سب درست ہے اس میں کچھ حرج نہیں عقد ونقد جمع ہونے کے یہ معنی کہ وہی خبیث روپیہ بائع کو دکھا کر کہا ہو کہ اس روپے کے بدلے چٹائیاں دے دے،یہ اس روپیہ پر عقد ہوا پھر وہی روپیہ ثمن میں دے دیا گیا ہو یہ اس روپے کا نقد ہوا،ظاہر کہ یہاں خرید وفروخت میں ایسا بہت نادر ہے غالبا چیز مانگتے ہیں کہ ایك روپیہ کے یہ دے دو پھر زر ثمن ادا کرتے ہیں یہ اگر اس مال خبیث سے ہوا ہو تو اس کا صرف نقد ہوا اس پر عقد نہ ہوا اور اس صورت میں ان چٹائیوں میں کوئی خباثت نہ آئی اور مسجد پر ان کا وقف صحیح ہوگیا اور وہ دینے والے کو واپس نہیں دی جاسکتیں جب تك مسجد میں قابل استعمال ہیں۔تنویر الابصار میں ہے:
|
غصب عبدا وآجر ہ تصدق بالغلۃ کما لوتصرف فی المغصوب والودیعۃ وربح اذا کان مستفیدا بالاجارۃ اوبالشراء بدراہم الودیعۃ اوالغصب ونقدھا وان اشار الیہا ونقد غیرھا اوالی غیرھا اواطلق ونقدھا لا وبہ یفتی [1]۔ |
جیسا کہ اگر کسی نے کوئی غلام غصب کیا(یعنی کسی سے اس کا غلام زبردستی چھین لیا) پھر اسے مزدوری پر لگایا(اور ٹھیکہ پر دیا)اورغلہ ہو تو پھر اجرت اور غلہ دونوں خیرات کردے جیسا کہ کسی نے غصب کردہ چیز یا امانت میں(بغیر اجازت مالک)کچھ تصرف کیا(بایں طور کہ اسے فروخت کردیا)اور اس سے نفع کمایا اگروہ متعین ہو اور اس کے تعین کی صورت اشارہ ہے اور امانت یا غصب کردہ دراہم سے اسے خریدنا ہے(یعنی عقد اور نقد دونوں میں زر حرام جمع ہو تو پھر وہ خرید کردہ چیز حرام ہوگی۔پس اس کا استعمال کرناجائز نہ ہوگا)پس تعین بالاشارہ اور خرید میں وہی حرام نقدی ہو تو اس حاصل شدہ نفع کو خیرات کردے)اوراگر اوپر والی صورت مذکورہ نہ ہو تو پھر اس کی تین صورتیں ہیں: (۱)عقد کے وقت زر حرام کی طرف اشارہ کیا مگر ادائیگی کے وقت کوئی اور نقدی دے دی۔(۲)بوقت عقد کسی اور مال کی طرف اشارہ کیا مگر ادائیگی کے وقت وہی مال حرام دے دیا۔(۳)عقد کرتے وقت ثمن میں اطلاق(یعنی بغیر کسی قید لگانے کے کہہ دیا کہ اتنی رقم فلاں چیز دے دو)لیکن ثمن دیتے وقت وہی زرحرام دے دیا۔پس ان تینوں صورتوں میں خیرات نہ کرے(کیونکہ حرمت نہیں پیدا ہوئی جیسا کہ ظاہر ہے)اور اسی قول پر فتوٰی دیا جاتاہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع