30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمادیں کیونکہ اس کام میں کفارہ واجب نہیں ایك روپیہ بطور استادی خدمت کے روانہ کیا جاتا ہے دس پانچ عالم کا مہر ودستخط کرا دیں۔سوال جس پیرا میں حضور تجویز کریں مگر وہ روپیہ مسجد کے خرچ میں درست ہونا درکار ہے۔حضور تو بحرالعلوم ہیں جن کا اسم گرامی تمام جہاں میں مشہور ہے بیرنگ روانہ کرنے سے جلد مل جائے گا مگر لفافہ پر کاتب کانام ضروری ہے ورنہ ڈاك والا روانہ نہیں کرتا ہے۔
الجواب:
وہ روپیہ کہ اس شخص سے زجرا لیا گیا حرام ہے کہ تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل حرام۔تنویر الابصار میں ہے:
|
التعزیر تأدیب دون الحد واکثرہ تسعۃ و ثلاثون سوطا ویکون بہ وبالصفح لا باخذ مال فی المذھب [1]۔ |
تعزیر ادب سکھانا ہے جو حد سے کم سزا ہے اس میں زیادہ سے زیادہ انتالیس ۳۹ کوڑے ہیں اور یہ کوڑے یا مکے مارنے سے ادا ہوتی ہے۔معتمد مذہب میں اس میں مال لینا نہیں۔(ت) |
بحرالرائق ودرمختار وردالمحتار میں ہے:
|
افاد فی البزازیۃ ان معنی التعزیر باخذ المال علی القول بہ امساك شیئ من مالہ منہ مدۃ لینزجر ثم یعیدہ الحاکم الیہ لا ان یاخذہ الحاکم لنفسہ او بیت المال کما یتوھمہ الظلمۃ اذا لایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی وفی شرح الآثار(اللامام الطحاوی رحمہ اﷲ تعالٰی)التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ [2]۔ |
فتاوٰی بزازیہ میں یہ افادہ پیش فرمایا کہ مال لے کر تعزیر قائم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ مجرم کے مال میں سے کچھ مدت کے لئے مال حاکم اپنے پاس رکھ لے تاکہ وہ جرائم سے باز آجائے۔پھر سدھر جانے پر حاکم وہ مال اس کولوٹا دے یہ مطلب نہیں کہ حاکم اپنی ذات کے لئے یا بیت المال کے لئے مال جرمانہ اس سے وصول کرے جیسا کہ بعض ظالموں نے وہم کیا ہے کیونکہ مسلمانوں میں سے کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ بغیر کسی سبب شرعی کے کسی کا مال حاصل کرے،اور شرح آثار امام طحاوی رحمہ اﷲ تعالٰی میں ہے کہ مالی تعزیر شروع اسلام میں تھی پھر منسوخ ہوگئی۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع