30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۰۲: ا ز امرتسر سید بڈھے شاہ صاحب ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
جنھوں نے زنا کاری اور ناچنا گانا اپنا پیشہ بنا رکھا ہے بلکہ پیشہ کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں اور اس فعل شنیع پر اصرار کئے بیٹھے ہیں اور اسی پر ان کی عمر گزرتی ہے اور اس زنا کی آمدنی پر ان کا کھانا پینا پہننا اور تمام امور ہوتے ہیں اہل اسلام کو ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہئے ان کے ساتھ میل جول بات چیت کرنا ان کے یہاں سے کچھ کھانا پینا یا ان کی خیرات صدقات سے کچھ حاصل کرنا یا ان کا کوئی کام کرنا اس کی اجرت لینا یا ان کا جنازہ پڑھنا یا شریك جنازہ ہونا یا انھیں غسل دینا یا ان کے ہاتھ کوئی چیز اس آمدنی کے عوض فروخت کرنا یا ان سے خریدنا وغیرہ وغیرہ شرعًا کیا حکم رکھتاہے؟
الجواب:
ان سے میل جول نہ چاہئے،
|
قال اﷲ تعالٰی وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾"""[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:اگر تمھیں شیطان کسی بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آجانے کے بعد کبھی ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔(ت) |
بلکہ اور بہت فاسقوں سے اس بارے میں ان کا حکم اشد ہے کہ ان سے ملنے میں آدمی متہم ہوتا ہے اور موضع تہمت سے بچنے کا حکم مؤکد ہے۔حدیث میں ہے:
|
من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلا یقفن مواقع التھم [2]۔ |
جو کوئی اﷲ تعالٰی اور دن قیامت پر یقین رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ مقامات تہمت میں نہ ٹھہرے(ت) |
زنا وغنا پر جو مال حاصل کیا جاتا ہے وہ ان لوگوں کی ملك نہیں ہوتا ان کے ہاتھ میں مثل مغصوب ہوتا ہے کما صرح بہ فی الفتاوی العالمگیریۃ وغیرھا(جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری اور دوسرے فتاوی میں اس کی تصریح کردی گئی ہے۔ت)نہ اس کا اجرت میں لینا جائز نہ کسی چیز کی قیمت میں لینا جائز،صدقہ وہدیہ تو دوسری بات ہے بلکہ وہ جو کچھ کسی فقیر کو دے اسے خیرات کہنا حرام ہے۔اس پر امید ثواب رکھنے کو علماء نےکفر لکھا ہے۔اور جو مال بعینہٖ انھوں نے ان حرام افعال کے عوض حاصل کیا اس کا خریدنا بھی حرام اس کا کھانا بھی حرام،ہاں اگر یہ مال انھوں نے خریدا ہو اگر چہ اپنے زر حرام سے اور اس پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع