30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرع شریف کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جس چیز کو خدا ورسول اچھا بتائیں وہ اچھی ہے اور جسے برافرمائیں وہ بری ہے اور جس سے سکوت فرمائیں یعنی شرع سے نہ اس کی خوبی نکلے نہ برائی وہ اباحت اصلیہ پر رہتی ہے کہ اس کے فعل وترك میں ثواب نہ عقاب،یہ قاعدہ ہمیشہ یاد رکھنے کا ہے کہ اکثر جگہ کام آئے گا آجکل مخالفین اہلسنت نے یہ روش اختیار کرلی ہے۔جس چیز کو چاہا شرک،حرام،بدعت،ضلالت کہنا شروع کردیا اگر چہ وہ فعل صحابہ کرام یا تابعین عظام یا ائمہ اعلام سے ثابت ہو،اگر چہ وہ فعل اس نیك بات کے عموم واطلاق میں داخل ہو جس کی خوبیاں صریح قرآن مجید وحدیث شریف میں مذکور ہیں پھر سہرے وغیرہ رسمی باتوں کی تو کیا حقیقت ہے اور اس پر طرہ یہ ہوتا ہے کہ اہلسنت سے پوچھتے ہیں تم جو ان چیزوں کو جائز بتاتے ہو قرآن وحدیث میں کہاں جائز لکھا ہے حالانکہ ان کو اپنی خوش فہمی سے اتنی خبر نہیں کہ جائز کہنے والا دلیل خاص کا محتاج نہیں،جو ناجائز کہے وہ قرآن حدیث میں دکھائے کہ ان افعال کو کہاں ناجائز کہا ہے۔کیا اہلسنت پر لازم ہے کہ وہ جس چیز کو جائز ومباح بتائیں اس کی خاص صورت کا حکم صریح قرآن مجید واحادیث شریف میں دکھائیں اور تم پر کچھ ضرور نہیں کہ جس چیز کو حرام بدعت گمراہی کہو خاص اس کی نسبت ان حکموں کی تصریح کتاب وسنت میں دکھادو۔ان امور کی قدرے تفصیل مسئلہ قیام میں فقیر نے ذکر کی اور تحقیق کامل تصانیف علمائے اہلسنت میں ہے۔شکر اﷲ تعالٰی مساعیھم الجمیلۃ۔
جب یہ قاعدہ شرعیہ معلوم ہولیا تو سہرے کا حکم خود ہی کھل گیا۔اب جو ناجائز،حرام،بدعت،ضلالت بتائے وہ خود قرآن مجید وحدیث شریف سے ثابت کر دکھائے ورنہ جان برادر! شرع تمھاری زبان کا نام نہیں کہ جسے چاہو بے دلیل حرام وممنوع کہہ دو،اور سفہائے مخالفین جو اس قسم کے مسائل میں حدیث من احدث فی امرنا [1]وغیرہ پیش کرتے ہیں محض بے محل واغوائے جہال کہ اس قدر تو طائفہ اسمعیلہ کو بھی مسلم کہ بدعت ضلالت وہی ہے جو بات دین میں نئی پیدا ہو اور دنیوی رسوم وعادت پر حکم بدعت نہیں ہوسکتا مثلا انگرکھا پہننا،پلاؤ کھانا یا دولھا کو جامہ پہنانا،دلہن کو پالکی میں بٹھانا،اسی طرح سہرا کہ اسے بھی کوئی دینی بات سمجھ کر نہیں کرتا،نہ بغرض ثواب کیا جاتاہے بلکہ سب ایك رسم ہی جان کر کرتے ہیں ہاں اگر کوئی جاہل اجہل ایسا ہو کہ اسے دینی بات جانے تو اس کی اس بیہودہ سمجھ پر اعتراض صحیح ہے اسی طرح سہرے کے باب میں حدیث من تشبہ بقوم فھو منھم [2](جو کسی قسم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہوجائے گا۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع