30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولعلہ قد یفوق ثمن البارود وانما السرف الصرف الی غرض لایحمد وتعدی القصد وتجاوز الحد فانظر ان ھذا من ذٰلك واﷲ یتولی ھداك نعم من اراد التفاخر فذٰلك الحرام جملۃ واحدۃ " اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوۡرَۨا ﴿ۙ۳۶﴾ "[1]والاختصاص لھذا بالدف والبندقۃ بل لو تلاقراٰن ونوی التفاخر لکان حراما محظورا والتالی اٰثما موزورا کما لایخفی فھذا ما عندنا فی الباب و ربنا سبحانہ اعلم بالصواب وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا والال والاصحاب اٰمین۔ |
نہیں یا تو دف خریدنے پر خرچ آئے گا یا بجانے کی اجرت دینی پڑے گی اور شاید بارود کی قیمت سے زیادہ ہو،اور خالص اسراف یہ ہے کہ ایسی غرض کے لئے خرچ کیا جائے جس میں کوئی حسن و خرابی اور فائدہ نہ ہو اور یہ میا نہ روی سے متجاوز ہو لہذا غور کیجئے کہ یہ کہاں اور وہ کہاں(بلکہ دونوں میں واضح فرق ہے)اور اﷲ تعالٰی تیری ہدایت کا مالك ہے۔ہاں اگر کسی نے آپس کے خرچ کرنے سے فخر کرنے کا ارادہ کیا تو یہ بالکل حرام ہے کیونکہ اﷲ تعالٰی اترانے والے فخر کرنیوالے کو پسندنہیں کرتا،لہذا حرمت کا دف اور بندوق سے کوئی اختصاص نہیں بلکہ اگر آپس میں تفاخر سے تلاوت کلام پاك کی جائے تو یہ بھی حرام اور ممنوع ہے۔پس اس صور ت میں تلاوت کرنے والا گنہ گار اور گناہ برداشتہ ہوگا جیسا کہ مخفی نہیں لہذا اس باب میں ہماری یہی تحقیق ہے۔اور ہمارا پاك پروردگارراہ صواب کو اچھی طرح جانتا ہے۔ہمارے آقا وسردار اور ان کی آل اولاد وصحابہ پر اﷲ تعالٰی کی خصوصی باران رحمت ہو۔ آمین!(ت) |
مسئلہ ۹۷: از مدراس جنتا دھاری دسگ شب گرامیں اسٹریٹ مرسلہ مولوی حاجی سید عبدالغفار صاحب بنگلوری۔
پھولوں کا سہرا جس میں نلکیاں اور پنی وغیرہ نہ ہو جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا(بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
پھولوں کا سہرا جیسا سوال میں مذکور رسوم دنیویہ سے ا یك رسم ہے جس کی ممانعت شرع مطہر سے ثابت نہیں نہ شرع میں اس کے کرنے کا حکم آیا ہے تو مثل اور تمام عادات ورسوم مباحہ کے مباح رہے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع