30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اعظم منہ ان اجھلھم تلا فی تحریمہ آیۃ " اِنَّ الْمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخْوٰنَ الشَّیٰطِیۡنِ ؕ"[1]"ولم یدر المسکین مافی الانفاق فی غرض محمود وفی مذموم او فی عبث من بون مبین ولو کان کل انفاق شیئ فی غرض مباح بل ومحمود اسرافا مذموما اذا امکن حصولہ باقل منہ لکان کل توسع فی مأکل او مشرب او منکح او مرکب اوملبس او مسکن حراما وھو خلاف الاجماع والنصوص الصریحۃ بغیر نزاع وھذا ربنا عزوجل قائلا " قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللہِ الَّتِیۡۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ MX`""[2]وھذا نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ والہ وسلم قائلا ان اﷲ تعالٰی یحب ان یرٰی اثر نعمتہ |
ان کا یہ قول معنی اسراف سے جہالت ہے اور اس سے بھی عظیم جہالت ان کے بڑے جاہل سے صادر ہوئی اس نے کام کی حرمت میں قرآن مجید کی آیۃ مبارك پڑھ لی"بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں"اور وہ بیچارہ یہ نہ سمجھا کہ اچھی اور بری غرض اور بے فائدہ کام میں خرچ کرنے میں کتنا واضح اور کھلا فرق ہے اگر ہر خرچ کرنا مباح کام میں بلکہ اچھی غرض میں اسراف اور مذموم ہوتا تو جب اسی کا اس سے معمولی درجہ میں بھی حصول ممکن ہوتا پھر کھانے،پینے،نکاح کرنے،سواری،لباس اور جائے سکونت اور ان سب میں وسعت اختیار کرناحرام ہو تا حالانکہ یہ اتفاق امت کے بالکل خلاف ہے اور صریح نصوص اس میں بغیر کسی نزاع کے وارد ہیں۔غور کیجئے کہ ہمارا پروردگار عزت وعظمت کا مالك اپنے محبوب کریم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمارہا ہے،فرما دیجئے کس نے حرام کردی اﷲ تعالٰی کی وہ زیب و زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے ظاہر فرمائی اور وہ پاکیزہ کھانے کی چیزیں۔ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلا شبہہ اﷲ تعالٰی اس بات کو پسند |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع