30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وغایر بالعطف والبندقۃ صوت یحصل بہ الاعلام بل ادخل فی المرام قال القاری ابن الملك المراد الترغیب الی اعلان امرالنکاح بحیث لایخفی علی الاباعد قال فی شرح السنۃ معناہ اعلان النکاح واضطراب الصوت بہ والذکر فی الناس کما یقال فلان قد ذھب صوتہ فی الناس [1]اھ فالنھی مفقود ویفید المقصود فالجواز موجود المنع مردود و ھل لاحد ان ینھی عما لم ینہ عنہ اﷲ ورسولہ جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔اما زعم بعض جھلۃ الوھابیۃ ولعمری مافی الوھابیۃ الا الجھلۃ انہ اسراف و الاسراف حرام فجھل منھم بمعنی الاسراف و |
مخصوص نہیں کیا بلکہ صورت کو مطلق رکھا گیا اور دونوں میں حرف"و"تغایر کے لئے بڑھا یاگیا اور رائفل سے ایسی آواز پیدا ہوتی ہے کہ جس سے آگاہی نصیب ہوتی ہے بلکہ اسے مقصود میں زیادہ دخل ہے۔ملا علی قاری نے فرمایا علامہ ابن ملك نے کہا کہ اس سے امر نکاح کے اعلان کرنے کی رغبت مقصود ہے تاکہ دور دراز والے لوگوں پر یہ معاملہ پوشیدہ نہ رہے۔شرح السنۃ میں فرمایا گیا کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نکاح کا اعلان اور اس کی آواز کی نشر واشاعت ہوجائے اور لوگوں میں اس کا تذکرہ ہو جیسے کہا جاتاہے کہ فلاں شخص کی آواز لوگوں میں پھیل گئی اور ان تك پہنچ گئی،خلاصہ کلام یہ کہ نہی مفقود اور افادہ مقصود ہے اور جواز موجود اور ممانعت مردود ہے کیا کسی کے لئے گنجائش ہے کہ جس کام سے اﷲ تعالٰی اور اس کے رسول گرامی منع نہ فرمائیں اس سے لوگوں کو روکے ہر گز ایسا نہیں ہوسکتا،اﷲ تعالٰی کی شان عظیم ہے اور اس کے رسول کریم پر اس کی طرف سے ہدیہ درود وتسلیم ہو، رہا بعض جاہل وہابیوں کا یہ خیال کہ یہ اسراف ہے(مجھے اپنی بقا کی قسم وہابیوں میں سوائے جہالت کے کچھ نہیں،لہذا قول وہابیہ کہ یہ اسراف ہے اور اسراف حرام ہے۔تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع