30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من رجال الستۃ کلاھما من صغار التابعین فالحدیث صحیح علی اصولنا علی ان النسائی روی بسند حسن عن جابر بن عبداﷲ وجابر بن عمیر رضی اﷲ تعالٰی عنہم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال کل شیئ لیس من ذکر اﷲ فھو لھو ولعب الا ان یکون اربعۃ ملاعبۃ الرجل امرأتہ وتادیب الرجل فرسہ و مشی الرجل بین الغرضین وتعلیم الرجل السباحۃ [1] واخرج الطبرانی فی الاوسط عن امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل لھو یکرہ الا ملا عبۃ الرجل امرأتہ ومشیہ بین الھدفین وتعلیمہ فرسہ [2]۔ فالحدیث صحیح لاشك وکان ھذا ھو مراد الفاضلین الکاملین ذوی الریاسۃ والسلامۃ النفاسۃ والکرامۃ المجیب |
ہے،صحاح ستہ کے رجال میں سے ہے دونوں اشخاص مذکور چھوٹے تابعین میں سے ہیں لہذا حدیث ہمارے اصول وقواعد کے مطابق صحیح ہے اس کے علاوہ امام نسائی نے اچھی سند کے ساتھ اسے جابر بن عبداﷲ اور جابر بن عمیر رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے حوالے سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا:"ہر وہ چیز جس میں ذکر الٰہی نہ ہو وہ کھیل اور تماشہ ہے لیکن چار چیزیں اس سے مستثنٰی ہیں(۱)مرد کا اپنی بیوی سے کھیلنا(۲)اپنے گھوڑے کو شائستگی سیکھانا (۳)مرد کا دونشانوں کے درمیان چلنا(۴)تیرا کی سیکھنا، اما م طبرانی نے"الاوسط"میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے یہ تخریج فرمائی کہ ہر کھیل مکروہ ہے سوائے تین کاموں کے(۱)مرد کا اپنی بیوی سے کھیلنا(۲)تیر اندازی کے دونشانوں کے درمیان چلنا(۳)اپنے گھوڑے کو سکھانا لہذا حدیث بلا شبہہ صحیح ہے اور دو فاضلوں کاملوں کی،شادی کے لہو مباح ہونے سے یہی مراد ہے جو ریاست سلامت نفاست کرامت والے ہیں ایك جواب دینے والا اور دوسرا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع