30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الدف الذی کان فی زمن المتقدمین واما ماعلیہ الجلاجل فینبغی ان یکون مکروھا بالاتفاق [1]اھ ملخصًاولا یذھبن عنك ان اللھو حقیقتہ حرام کلھا دقھا وجلتھا اما ماابیح فی العرس ونحوہ من ضرب الدف وانشاد الاشعار المباحۃ بہ القصد المباح اوالمندوب لاللتلھی واللعب المعیوب فانما سمی لھوا صورۃ کما سمیت السنن الثلث ملاعبۃ الفرس والمرأۃ والرمی بذٰلك لذٰلك بالضرورۃ فلا منا فاۃ بین حدیث قرظۃ بن کعب وابی مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہما وقول المحقق العینی وغیرہ انما کان منھیا اذا کان للھو اما لغیرہ فلا باس کطبل الغزاۃ والعرس [2]۔ قال فی ردالمحتار نقلا عن الکفایۃ شرح الہدایۃ اللھو حرام بالنص قال علیہ الصلوٰۃ والسلام لھو المؤمن باطل الا فی ثلث تادیبہ فرسہ |
کی دف مراد ہے۔رہی وہ دف کہ جس کی گھنٹی جیسی آواز اور جھنکار ہو تو وہ بالاتفاق مکروہ ہے(ملخص پورا ہوگیا)یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ درحقیقت ہر لہو حرام ہے خواہ آلات لہو کی آواز باریك ہو یا موٹی،رہی یہ بات کہ شادی وغیرہ کے موقع پر دف بجانا مباح ہے اور مندوب ارادے سے جائز اشعار پڑھنا بشرطیکہ معیوب طریقے پر نہ ہو،تو ان تمام باتوں کے مباح ہونے کا حکم ہے البتہ اسے صورۃً لہو کہا گیا جیسا کہ تین کاموں کو(یعنی عورت اور گھوڑے سے کھیلنا اور تیز اندازی کرنا)جو درحقیقت سنت ہیں،اسی وجہ سے اس ضرورت کی بناء پر انھیں لہو کا نام دیا گیا لہذا قرظہ بن کعب اور ابومسعود بدری رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی حدیث اورمحقق عینی وغیرہ کے کلام میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ دف بجانے کا جواز اس صورت میں ہے کہ جب بطور لہو نہ ہو ورنہ منع ہے۔اس کی مثال جیسے غازیوں کا طبلہ اور شادیوں میں دف بجانا ہے۔ علامہ شامی نے کفایہ شرح ہدایہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ نص کی بنیاد پر لہو حرام ہے چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ تین کھیلوں کے علاوہ مسلمان کا ہر کھیل باطل ہے:(۱)گھوڑے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع