30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الجلاجل فمن اللھو الباطل و النھی عنھا مشھور وفی ز برالصدور مزبور وذٰلك لما فیھا من التطریب وقد کرھواضرب الساذج علی ھیئۃ الطرب فکیف بمابہ فی نفسہ معیب وقد قدم الفاضل المجیب عن العلامۃ الشامی عن الفتاوی السراجیۃ ان ھذا ای جواز ضرب الدف فی العرس اذا لم تکن لہ جلاجل ولم یضرب علی ھیئۃ التطرب[1] اھ ولم یثبت وجودھا فی الدفوف فی زمن الحدیث والرسالۃ بل ھو لھو حدیث اخترعہ بعدہ اھل اللعب والبطالۃ فی المرقاۃ شرح المشکوٰۃ (فجعلت جویر یات لنا)بالتصغیر قیل المراد بھن بنات الانصار لا المملوکات(یضربن بالدف) قیل تلك البنات لم یکن بالغات حد الشھوۃ وکان دفھن غیر مصحوب بالجلاجل،قال اکمل الدین المراد بہ |
رہا یہ کہ دف کی آواز گھنگھر و اور گھنٹی کی جھنکار کی طرح ہو تو یہ لہو باطل میں شمار ہے اور اس سے ممانعت مشہور ہے چنانچہ یہ سینوں کی تختیوں پرلکھا ہوا ہے اس لئے کہ اس میں خوش آوازی اور سر یلا پن ہے۔حالانکہ فقہائے کرام نے کسی سادہ چیز کو گانے کی شکل اورہیئت پر بجانے کو مکرہ قراردیا ہے پھر اس کا کیا کہنا جو بذاتہٖ عیب دار ہو،چنانچہ فاضل مجیب علامہ شامی سے بحوالہ فتاوٰی سراجیہ پہلے نقل کیا ہے کہ شادی میں دف بجانے کا جواز اس شرط سے مشروط ہے کہ اس میں ٹن ٹن کی آواز نہ ہو اور وہ گانے کی ہیت پر بھی نہ بجایا جائے اور حدیث اور رسالت کے زمانے میں دف کے لئے ٹن ٹن کی سریلی آواز نہ تھی بلکہ یہ کھیل تماشے کی باتیں زمانہ رسالت کے بعد ارباب باطل نے ایجاد واختراع کرلیں چنانچہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے کہ ہمارے ہاں چند چھوٹی بچیاں تھیں جو دف بجا رہی تھیں،یہاں حدیث میں لفظ جویریات ہے جو جویریہ کی جمع اور صیغہ تصغیر ہے کہا گیا کہ ان سے انصار کی چھوٹی بچیاں مراد ہیں لہذا باندیاں مراد نہیں،اور یہ بھی کہا گیا کہ مکمل جوان نہ تھیں اور ان کی دف کی آواز سریلی اور ٹن ٹن والی نہ تھی،چنانچہ علامہ اکمل الدین نے فرمایا ان کی دف سے زمانہ متقدمین |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع