30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وکذا الطبل قال المحقق العینی والطبل انما کان منھیا اذا کان للھو اما لغیرہ فلا بأس کطبل الغزاۃ و العرس [1]وقد صح ضرب الدف لیلۃ العرس وفی الاعیاد عند النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واکد ذلك بما رواہ احمد و الترمذی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال فصل مابین الحلال والحرام الصوت والدف فی النکاح [2] وبما رواہ النسائی عن عامر بن سعد قال دخلت علی قرظۃ وابی مسعود الانصاری فی عرس واذا جوار یغنین فقلت انتما صاحبا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومن اھل بدر یفعل ھذا عندکم فقال اجلس ان شئت فاسمع معنا وان شنت اذھب رخص لنا |
کے مشابہ زور دار نہ ہو اھ۔اور طبلہ بھی اسی طرح ہے محقق عینی نے فرمایا:طبلہ اس وقت منع ہے جب لہو ولعب کے لئے ہو اگر اس مقصد کے لئے نہ ہو تو کوئی حرج نہیں جیسے اگر اعلان جہاد کے لئے یا شادی وغیرہ کے موقع پر اس کا استعمال اور شادی والی رات دف بجانا جائز ہے اور عید کے مواقع پر حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے روبرو دف بجائی گئی اور اس کی تاکید کی گئی اس حدیث سے جو امام احمد اور امام ترمذی نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کی آپ نے ارشادفرمایا حلال اور حرام میں فر ق نکاح میں دف بجانے اور گیت گانے سے ہے،اور وہ حدیث جس کو امام نسائی نے عامر بن سعد سے روایت کیا ہے انھوں نے فرمایا میں ایك شادی میں قرظہ اور ابومسعود انصاری کے ہاں گیا وہاں چند بچیاں گیت گارہی تھیں میں نے(یہ منظر دیکھ کر)کہا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اے بدری ساتھیو! تمھارے ہاں یہ کام ہورہاہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اگر مرضی ہو تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر تم بھی سنو اور اگر مرضی نہیں ہے تو یہاں سے چلے جاؤ(اور ہمیں نہ ٹوکو)کیونکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع