30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سامعھا اومن المشتغل بھا [1] اھ قلت وحرمۃ الاٰت اللھو لقصد اللھو فی غیر العِرسِ واما فی العرس فاللھو مباح من حدیث عائشہ زفت امرأۃ الی رجل من الانصار فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماکان معکم لھو فان الانصار لیعجبھم اللھو رواہ البخاری [2] وھذ اعلی تسلیم ان البنادیق من الاٰت اللھو والا فلا شناعۃ فیھا من قبل،واﷲ سبحانہ اعلم۔ |
آلات فی نفسہ حرام نہیں بلکہ کھیل تماشے کے ارادے سے ان کا استعمال کرنا حرام ہے خواہ"قصد لہو"سامع کی طرف سے ہو یا انھیں استعمال کرنے اور ان سے شغل رکھنے والے کی طرف سے ہو اھ،میں کہتاہوں آلات لہو کی حرمت۔لہو ولعب کے قصد سے موقع شادی کے علاوہ ہے۔جہاں تك شادی کا تعلق ہے تو ان کا استعمال حدیث عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی وجہ سے مباح ہے،چنانچہ ام المومنین نے ارشاد فرمایا کہ ایك عورت کو(تیار کرکے)ایك انصاری کے پاس بھیجا گیا تو حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس موقع پر ارشاد فرمایا:کیا تمھارے پاس کھیل کود کا سامان نہیں تھا کیونکہ انصار کو کھیل کود سے خوشی ہوتی ہے،امام بخاری نے اس کو روایت کیا ہے اور یہ اس بناء پر ہے کہ اگر یہ تسلیم کرلیں کہ بندوقوں سے فائرنگ وغیرہ"آلات لہو"میں شامل ہے ورنہ اس سے پہلے ان میں کوئی قباحت نہیں،اور اﷲ تعالٰی پاك سب کچھ اچھی طرح جاننے والا ہے(جواب مولوی ریاست علی خان مکمل ہوگیا ہے) |
خلاصہ جواب الشاہ سلامت اﷲ فی تائیدہ
|
لاریب فی جواز ضرب الدف لاعلان النکاح بل فی سنتہ فی الفتاوی الغیاثیۃ ضرب الدف فی النکاح اعلان وتشہیرا سنۃ و یجب ان یکون بلاسنجات وجلا جل [3]اھ |
اعلان نکاح کے لئے دف بجانا کے جواز بلکہ اس کے سنت ہونے میں کوئی شك وشبہ نہیں۔فتاوٰی غیاثیہ میں ہے:نکاح کے موقعہ پر دف اس کے اعلان اور تشہیر کے لئے سنت ہے اور ضروری ہے کہ دف کی آواز گھنگھرو ٹلیوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع